ادارتی پالیسی - نو رنگ
مرکزی صفحہ  ادارتی پالیسی

 ادارتی پالیسی

by نو رنگ

ادارہ ’نو رنگ‘ کو تحریر ان پیج، ورڈ فارمیٹ میں بھیجی جا سکتی ہے۔  کوشش کریں کہ نستعلیق فونٹ کی بجائے نسخ فونٹ یعنی عام موبائل یا کمپیوٹر والا فونٹ استعمال کریں۔
’نو رنگ‘ کسی بھی موضوع پر لکھے گئے مضمون کو قبول کر سکتا ہے۔ عموماً مضمون کی لمبائی چھے سو سے بارہ سو الفاظ تک ہوتی ہے، لیکن مضمون کے متن کو دیکھ کر زیادہ طویل مضامین پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ بھیجے جانے والے تمام مضامین طبع زاد ہونے چاہئیں اور مصنف کی طرف سے خود ارسال کئے جانے چاہئیں۔

ایسے مضامین کو اولین فرصت میں شائع کرنے کو ترجیح دیتا ہے جو پہلے کسی دوسرے آن لائن پیپر، فیس بک یا اخبار وغیرہ میں نہ شائع کئے جا چکے ہوں۔

ہم اس بات پر معذرت خواہ ہیں کہ موصول ہونے والے مضامین کی ایک بڑی تعداد اور کم وسائل کے سبب، ہم انفرادی طور پر تمام ایمیل اور پیغامات کا فرداً فرداً جواب دینے سے قاصر ہیں۔ اگر آپ کا مضمون موصول ہونے کے تین دن کے اندر اندر آپ کو ہماری طرف سے جواب موصول نہ ہو تو یہ سمجھ لیجیے کہ ہم آپ کا مضمون شائع کرنے سے قاصر ہیں۔ اس صورت میں آپ اپنے مضمون کو اشاعت کی خاطر دوسرے اداروں کو بھیج سکتے ہیں۔ اگر کسی بھی وجہ سے ’نو رنگ‘ آپ کی تحریر شائع نہیں کرتا ہے تو برائے مہربانی اپنی تحریر کی اشاعت کے لئے اصرار مت کریں۔ کسی تحریر کو شائع کرنے یا نہ کرنے کا صوابدیدی اختیار صرف اور صرف ’نو رنگ‘ کی ادارتی ٹیم کا ہی ہے اور اس معاملے میں ادارتی ٹیم کا فیصلہ حتمی تصور کیا جائے۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ ایڈیٹر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ آپ کی تحریر کو قابل اشاعت بنانے کی خاطر اس میں قطع و برید کر دے۔

تحریر بھیجنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنا لیں کہ آپ نے اس آرٹیکل پر موجود ’نو رنگ‘ کی ادارتی گائیڈ لائن پر عمل کیا ہے۔ بسا اوقات آپ کی ایک اچھی تحریر بھی کمپوزنگ کے غیر معیاری ہونے کی وجہ سے مسترد کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ خود اپنی تحریر کو اہم سمجھ کر اس پر محنت نہیں کریں گے، تو پھر دوسرے افراد بھی اسے اہمیت نہ دینے پر مائل ہوں گے۔ ادارتی عملے کو اگر ایسی دو تحریروں میں سے انتخاب کرنا ہو جن میں سے ایک کو اشاعت کے لئے بہت کم توجہ درکار ہو، اور دوسری پر بہت زیادہ کام کر کے اسے اشاعت کے قابل بنایا جا سکے، تو بیشتر صورتوں میں پہلی تحریر ہی شائع ہو گی۔

’نو رنگ‘ ایسے مصنفین کے مضامین ہی شائع کرتا ہے جو ادارتی ٹیم سے اپنی اصل شناخت چھپا کر گمنام رہتے ہوئے مضامین ارسال نہ کریں۔ مصنف کی شناخت ادارتی عملے کے لئے اہم ہے۔ یہ ممکن ہے کہ آپ لکھنے کے لئے ایک قلمی نام اختیار کریں، لیکن ادارے کو آپ کی اصل شناخت کا علم ہونا چاہیے۔

اصل شناخت کے لئے مصنف کسی مشترکہ دوست کے ذریعے اپنی اصل شناخت فراہم کر سکتا ہے، یا اس کا فیس بک پروفائل ’نو رنگ‘ کے لئے قابل اعتبار ہو، یا مصنف کو ’نو رنگ‘ کی ادارتی ٹیم کے افراد ذاتی طور پر جانتے ہوں۔ مختصر یہ کہ ہمیں مصنف کی شناخت کا علم ہونا چاہیے تاکہ ہم اس کی تحریر کو چھاپنے کی ذمہ داری قبول کر سکیں۔ شناخت کے علاوہ ہمیں مضمون کے ساتھ شائع کرنے کے لئے مصنف کی تصویر بھی چاہیے ہوتی ہے۔
یاد رکھیں آپ کی تحریر کسی قسم کی فرقہ وارانہ، نسلی یا علاقائی تعصب، پاکستان مخالف، فحش مواد پر ہر گز مشتمل نہ ہو۔ ‘نو رنگ’ ایسی تحاریر شائع نہیں کرے گا۔
بلاگ/کالم مصنف کی ذاتی رائے پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے اس میں دائیں یا بائیں بازو کی کوئی قید نہیں۔ آپ جس پر چاہیں تنقید یا تعریف کر سکتے ہیں مگر اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر۔ مصنف کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں اور ادارہ مصنف کی رائے کا ذمہ دار نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف مصنف ہی اپنی تحریر کا ذمہ دار ہے۔
اپنی تحریر اور تصویر نیچےدئیے گئے ایمیل پر ارسال کریں یا یہاں پر کلک کریں 
naurungofficial@gmail.com