قانون سازی میگنا کارٹا کے اصولوں پر از حمیراعنبرینِِِِ - نو رنگ
مرکزی صفحہ سیاست قانون سازی میگنا کارٹا کے اصولوں پر از حمیراعنبرینِِِِ

قانون سازی میگنا کارٹا کے اصولوں پر از حمیراعنبرینِِِِ

by نو رنگ
1 کمینٹ 0 ویوز

عصر حاضر میں جمہوریت کے مطابق ملک کے نظم و نسق، ملکی وسائل پر حق ملکیت اور ملک پر حق حکمرانی فقط عوام کو حاصل ہے.  ملک پر تمام عوام بیک وقت حکومت نہیں کرسکتے اس کے پیش نظر عوام ووٹ کے ذریعے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں. یوں عوام اپنا  حق حکمرانی اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے سے استعمال کرتے ہیں. یہی عوامی نمائندے پارلیمنٹ میں قانون سازی کرتے ہیں، قانون سازی میں سب اہم قانون ملک کی دستور سازی (آئین) ہے.

ملک کا نظم و نسق چلانے کے لئے ایک متفقہ دستور کی ضرورت ہوتی ہے. جس میں ریاست کے ہر فریق کی ذمہ داریاں اور حقوق و فرائض معین ہوتی ہے. ریاست کے مختلف سٹیک ہولڈرز کے درمیان عمرانی معاہدہ کو آئین کہتے ہیں. معاشرہ میں امن و استحکام کے لئے ضروری ہے کہ آئین پر من و عن عمل درآمد کیا جائے،  آئین ہی  ملک کو لا قانونیت، انتشار، بے یقینی اور خانہ جنگی کی آگ  بچاتا ہے.

آئین کی انسانی معاشرے اہمیت و افادیت کے پیش نظر اس کے کسی شق سے رو گردانی اور خلاف ورزی ریاست سے دشمنی کے مترادف ہے.

 

آئین کے رو سے سب سے بڑا جرم غداری ہے اور غداری سے مراد آئین کی صریحاً خلاف ورزی کرنا یا آئین توڑنا. کیونکہ آئین کا کام ملک کا نظم و نسق کو برقرار رکھنا ہے اور اسی میں ہی ملک کی بقا ہے. آئین مملکت کے حدود و قیود معین کرتا ہے، ملک کے باشندوں کے بنیادی انسانی حقوق کا ضامن ہوتا ہے.

پارلیمنٹ میں اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے عوام اپنے اختیارات استعمال کرتیں ہیں. بوقت ضرورت اگر آئین کے کسی شق میں کوئی تبدیلی کرنی ہو تو پارلیمنٹ کے دو تہائی اراکین کی تائید سے فیصلہ ہوتا ہے. بطور عوامی نمائندے پارلیمنٹ کاروبار مملکت کو چلانے اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے حکومت (وزیر اعظم اور کابینہ) کا انتخاب کرتی ہے. اور منتخب حکومت اپنی کارکردگی کےلیے پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوتی ہے.

حکومت مختلف ریاستی سلامتی ادارے ملک کی حفاظت کے لئے بناتی ہے. دفاعی اداروں میں بیرونی حملوں سے نمٹنا اور سرحدوں کی حفاظت کرنے کے لیے فوج کا ریاستی ادارہ قائم ہوتا ہے اور اندرونی حفاظتی معاملات پولیس کے ذمہ ہوتی ہے. فوج اور پولیس سمیت دیگر ریاستی ادارے اوت سرکاری مشینری اپنے فرائض کی ادائیگی میں حکومت کو جوابدہ ہوتی ہے. عدلیہ کسی بھی ملک کا سب سے بارسوخ ادارہ ہوتا ہے جو آئین کء تحت بننے والے قوانین کی تشریح کرتا ہے. عدلیہ اپنے اختیارات میں خود مختار ہوتا ہے نہ پارلیمنٹ کو نہ حکومت کو جوابدہ ہوتا ہے. ججوں کی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور اس کو محاسبہ کرنے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کو حاصل ہوتا ہے. عدلیہ کی بنیاد ترین ذمہ داریاں قانون کا غلط استعمال روکنے اور ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے. اس ضمن میں اپنے اختیارات کو بروئے کار لانا ہے. ریاست کے تمام اداروں کو مقررہ حدود کے اندر پابند کرنا عدلیہ کا کام ہے.  اداروں کی جانب سے کوئی آئینی حد تجاوز پر عدلیہ ان سے بازپرس کرتی ہے. ایک ریاست کے قیام کا ڈھانچہ ان تین ستون (پارلیمنٹ، حکومت اور عدلیہ) پر مشتمل ہوتا ہے. تینوں کا بنیادی مقصد عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے. یہ تینوں ستون عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں.

وطن عزیز پاکستان میں زمینی حقائق مختلف ہے. یہاں پر نہ تو جمہوریت کو کبھی پروان چڑھنے نہیں دیا گیا لہذا حکومت بھی عوام کا انتخاب شدہ نہیں رہا ہے. آئین سازی کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو وہی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ ذاتی مفادات کی خاطر کس طرح سے آئین سازی میں مسائل بنائے گئے. اور ملک کو آئین سے جبری طور پر محروم رکھا گیا، پاکستان کا آئین بنا بھی تو جب اسکا مشرقی حصہ اس سے الگ ہوگیا. تقسیم پاکستان کے بعد بھی باقی ماندہ حصے کو اسی پرانی روش کے ساتھ چلایا گیا وہی غلطیاں دوہرائی. ملکی سطح پر غلطیوں کو غلطی نہیں جرم کہا جاتا ہے. قوم سازی کے لیے قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا، مفاد پرست عناصر نے لیڈروں کا لباس اوڑھے اس مملکت خداداد کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کر دیا. اندونی سیاسی و معاشی بحران، دہشتگردی کے خلاف جنگ، ریاست کے مختلف ماتحت اداروں کی ہٹ دھرمی، آئینی حدود سے بیجا تجاوز، اختیارات کو طاقت میں بدلنا، طاقت کا غلط استعمال اور ذاتی مفادات نے پاکستان کا نام نہ صرف دنیا میں بدنام کر رکھا ہے بلکہ اب پاکستان کے عوام کی نظر میں بھی یہ کسی جنگل سے کم نہیں.

پاکستان میں اس وقت جنگل کے قانون سا سماں ہے. مختلف معاشروں میں ’’جنگل کا قانون‘‘ لاگو ہونے کی اصطلاح بے امنی، خانہ جنگی اور ملکی قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے یا پھر ملک میں کوئی قانون نہ ہونے کے معنوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم اگر یہ نظر غائر دیکھا جائے تو یہ اصطلاح زیادہ درست نظر نہیں آتی، کیونکہ جنگل میں قانون موجود ہوتا ہے اور سارے کمزور جانور اس کی تابعداری بھی کرتے ہیں! یہ قانون جنگل کے سب سے طاقتور (جانور) شیر نے بنایا ہوتا ہے کہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اگر شیر بکری سے کہے کہ دریا کا پانی ڈھلوان کی طرف نہیں بلکہ چڑھائی کی طرف بہہ رہا ہے تو ’’مروجہ‘‘ قانون کے مطابق یہ بات درست ہوگی اور بکری کو اس قانون کی خلاف ورزی کی سزا بھی ملے گی! اس قانون کو کوئی جانور چیلنج بھی نہیں کرسکتا کیونکہ شیر سے زیادہ طاقتور اور شاطر کوئی دوسرا جانور جنگل میں موجود ہی نہیںہوتا اور نہ ہی ان میں اتحاد کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے کہ دو چار بھیڑیے، ہاتھی، ریچھ وغیرہ متحد ہوکر بادشاہ سلامت کو ’’قابو‘‘ کرلیں اور اس کی مرضی کے قوانین کو تبدیل کرسکیں!

اس وقت ٢٠٢١ ہے مگر پاکستان کے حالات  بارویں صدی کے انگلستان کے جیسے ہیں، لہذا وہی روش اختیار کرنی ہوگی جو انگلستان کے لوگوں نے اختیار کی تھی.

1215 میں ، انگلینڈ کے شاہ جان نے انگلینڈ کے حکمرانی کے ذریعہ متعدد قدیم قوانین اور رسومات کی خلاف ورزی کرنے کے بعد ، اس کے شہریوں نے اسے میگنا کارٹا پر دستخط کرنے پر مجبور کردیا ، جو بعد میں انسانی حقوق کی حیثیت سے سوچا گیا تھا۔ میگنا کارٹا جون ١٢١٥ میں جاری ہونے والا شہری و انسانی حقوق کی وہ پہلی تحریری دستاویز ہے جس میں بادشاہ اور اسکی حکومت کی قانون سے بالادستی کو ختم کیا اور قانون کو ایک طاقت کے طور پر قائم کرکے شاہی اختیار کی حدود قائم کی. میگنا کارٹا سیاسی بحران اور انگلینڈ کے سرکردہ مردوں کی بغاوت کا نتیجہ تھا.

میگنا کارٹا یعنی عظیم چارٹر تاریخ کی ایک اہم دستاویز جو قانون سازی کرتا ہے کہ ہر شخص حتیٰ کہ بادشاہ بھی قانون کے تابع ہوگا.

جدید جمہوریت کی ترقی میں بڑے پیمانے پر ایک اہم قانونی دستاویز کے طور پر دیکھا جاتا ہے ، میگنا کارٹا آزادی کے حصول کی جدوجہد کا ایک اہم موڑ تھا۔

پوری دستاویز لاطینی میں لکھی گئی ہے ، اور اصل میگنا کارٹا میں 63 شقیں تھیں۔ آج ، ان میں سے صرف تین ہی تحریری صورت میں باقی ہیں۔ ایک انگلش چرچ کی آزادی اور حقوق کا دفاع کرتا ہے ، دوسرا لندن اور دیگر شہروں کی آزادی اور رسم و رواج کی تصدیق کرتا ہے ، اور تیسرا تمام انگریزی شہریوں کو انصاف کا حق اور منصفانہ آزمائش فراہم کرتا ہے۔ تیسرا کہتا ہے:

کسی بھی آزاد فرد کو گرفتار یا جیل میں نہیں رکھا جاسکے گا ، یا اس کے حقوق یا املاک کو چھین لیا جائے گا ، یا اسے غیر قانونی یا جلاوطن کیا جائے گا ، یا کسی اور طرح سے اس کے منصب سے محروم رکھا جائے گا ، اور نہ ہی ہم اس کے خلاف طاقت کے ساتھ آگے بڑھیں گے ، یا دوسروں کو ایسا کرنے کے لئے نہیں بھیجیں گے.

 

میگنا کارٹا کا وسیع تر کردار ہمیں ٣ جگہ پر دیکھنے کو ملتا ہے.

میگنا کارٹا کو پارلیمانی جمہوریت کے قیام کی طرف انگلینڈ میں اٹھائے جانے والے پہلے اقدامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے

امریکہ  سن 1776 میں ،  امریکی انقلاب کے موقع پر برطانیہ تاج سے آزادی کے مطالبے کے لئے بطور ماڈل میگنا کارٹا کی طرف دیکھا۔ اس کی وراثت خاص طور پر بل برائے حقوق اور امریکی آئین میں واضح ہے. امریکی بل آف رائٹس میں میگنا کارٹا کے مضبوط اثرات ہیں جو 1791 میں لکھے گئے تھے۔ آج تک واشنگٹن ڈی سی میں قومی آرکائیوز میں ایک 1297 کاپی موجود ہے۔

 

ابھی حال ہی میں ، میگنا کارٹا کے بنیادی اصول دوسری عالمی جنگ کے بالکل بعد ہی 1948 میں لکھے گئے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں بہت واضح طور پر دیکھے گئے ہیں۔

1
1 کمینٹ

ریلیٹڈ آرٹیکلز

1 کمینٹ

رضابلوچ اپریل 22, 2021 - 5:58 شام

بہت خوب

جواب دیں

کمینٹ کریں