سنو تو سہی، سوچو تو سہی، سمجھو تو سہی! از ماریہ اسلم - نو رنگ
مرکزی صفحہ اردو نثر سنو تو سہی، سوچو تو سہی، سمجھو تو سہی! از ماریہ اسلم

سنو تو سہی، سوچو تو سہی، سمجھو تو سہی! از ماریہ اسلم

by نو رنگ
2 کمنٹس 0 ویوز

Maria Aslam

خدارا اپنے بچوں کی سنو!
پیاری ماوں ، بہنوں ، بیٹیوں!
بچے یونہی کچھ نہیں کہتے!
وہ بھی دل رکھتے،
احساس رکھتے،
جزبات رکھتے،
انکی بات سنو تو سہی!
وہ بات میں وزن رکھتے ہیں،
کب تک بچہ سمجھ کر انکو چپ کرواو گے؟
بچے بھی سوز رکھتے ہیں،
انھیں سنو تو سہی!
اپنا وقت دو انکو تاکہ وہ آپکی سن سکیں!
گیا وقت ہاتھ نہیں آتا،
نا سنو گے تو خوب پچھتاو گے
بچے کو کھو دیں گے
وہ کسی اور میں اپنا دوست ڈھونڈ لیں گے
جو اسکو سنیں گے، غلط راہ پہ چل پڑیں گے!
منزل سے بھٹک جائیں گے،
پھر ہاتھ کچھ نا آئے گا!
بچے بھی دل رکھتے ہیں، انکا دل کھول کر تو دیکھو!
کئی دفعہ بچے وہ بات کہہ یا محسوس کر جاتے ہیں، جو بڑا چاہ کر بھی نہیں کر سکتا!
بچہ سمجھ کر مت جھٹلاو اسکی سوچ کو، اس سوچ میں ایک راز پنہاں ہے!
سمجھو تو سہی، سوچو تو سہی!
خدارا اپنے بچوں کو سنو تو سہی،
ٹٹولو تو سہی انکے دل کو۔
وہ بھی کسی سے کم نہیں، طوفان ہے اپنے اندر سمیٹے ہوئے، اسکو بہنے دو کسی اپنے کے آگے!
سنو تو سہی اپنے بچوں کو، قدر کرو انکی بات کی۔
وہ کچھ بھی ایسے نہیں کہتے، ایک فلسفہ مخفی ہوتا اس سوچ کے پیچھے!
سنو تو سہی، سوچو تو سہی، سمجھو تو سہی!

6
2 کمنٹس

ریلیٹڈ آرٹیکلز

2 کمنٹس

Amir Aziz اپریل 12, 2021 - 5:42 شام

سنہرے حروف 😌

جواب دیں
Mah noor اپریل 13, 2021 - 3:29 شام

بہت زبردست
بچے کسی بیج کی طرح ہوتے اس بیج کو سوکھے مرجھائے پودے میں تبدیل کرنا ہے یا شجرِ سایہ دار یہ مالی پر منحصر ہے

جواب دیں

کمینٹ کریں