"مسلمان جھوٹے خداؤں کے نرغے میں" کتاب از سلمان آصف صدیقی تحریر : فاطمہ احسن - نو رنگ
مرکزی صفحہ طرز زندگی "مسلمان جھوٹے خداؤں کے نرغے میں” کتاب از سلمان آصف صدیقی تحریر : فاطمہ احسن

"مسلمان جھوٹے خداؤں کے نرغے میں” کتاب از سلمان آصف صدیقی تحریر : فاطمہ احسن

by نو رنگ
0 کمینٹ 0 ویوز

Fatima

سلمان آصف صدیقی صاحب کی کتاب "مسلمان جھوٹے خداؤں کے نرغے میں” حال ہی میں 2020 کے اندر شائع ہوئی ہے۔ 2020 میں کرونا وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عالمی منظر نامہ اس کتاب کی گفتگو کا پسِ منظر ضرور ہے لیکن موضوع نہیں!
جب میں نے یہ کتاب پڑھنی شروع کی تو ساتھ ہی اس کتاب کے پہلے چند ابواب نے میری توجہ اپنی طرف خاصی مبذول کرلی۔ در اصل کتاب کا تعارف ہی اُن بنیادی سوالات سے ہوتا ہے جن سوالوں کے جواب کے اشتیاق میں اکثر لوگوں کی ساری زندگیاں تک نکل جاتی ہیں۔ یہ سوالات شاید ہر غوروفکر کرنے والے شخص کے ہوتے ہیں۔ کسی خوش نصیب کو ماحول اور مرشد کی صحبت سے آفاقہ ہوتا ہے اور وہ زندگی کے مقاصد کو سمجھ کر بامعنی زندگی گزار لیتا ہے اور کچھ کے لئے تو مرتے دم تک یہی مقصد طے نہیں ہوتا کہ ان کا مقصد تخلیق کیا ہے؟ ایسے بہت سے سوالات میرے ذہن میں بھی تھے اور ہیں۔ کافی جواب یہ کتاب پڑھنے کے بعد واضح ہوئے اور ایک لمبی فہرست ایسی بھی باقی ہے جن کی تلاش مجھے اب بھی ہے۔

دراصل بنیادی سوالات کی تین اقسام ہیں۔ پہلی قسم کے سوالات انسان کو عقیدے تک پہنچاتے ہیں اور اس کے ایمان اور تناظر کی تشکیل میں معاونت کرتے ہیں۔ یہ سوالات بہت ہی بنیادی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق انسان، کائنات اور خدا سے ہے۔ مثلا میں کون ہوں اور کیوں پیدا کیا گیا ہوں؟ میری حقیقت کیا ہے؟ یہ دنیا کیا ہے اور کیوں ہے؟ اس کائنات کی حقیقت کیا ہے؟ اس کائنات کا خالق اور خدا کون ہے وہ ہم سے اصل میں کیا چاہتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں. یہ عمل انسان کے وجود کی معنویت کا تعین کرتے ہیں۔ ان سوالات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فکری عمل کی ابتدائی رہنمائی ذہن کی فطری منطق کرتی ہے جس کو ہم عقل سلیم بھی کہتے ہیں۔

دوسری قسم کے سوالات عقیدے اور ایمان کی جڑیں گہری کرتے ہیں اور ان کے دفاع کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں. جب ایک دفعہ انسان کو ایمان اور اس پر یکسوئی نصیب ہو جائے تو پھر سوالات کا عمل بصیرت اور خیر کے اگلے دروازے کھولنا شروع کرتا ہے۔ یہ دوسری قسم کے سوالات مان جانے کے بعد انکار کی فضا میں اس پر جمے رہنے کے ہتھیار فراہم کرتے ہیں۔ مثلا مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟ دنیا کی زندگی اتنی مختصر اور آخرت کی لا متنا کیوں ہے ؟خدا نے ہمیں غیب کا علم کیوں نہیں دیا یا سود کیوں حرام ہے؟ وغیرہ وغیرہ..
دوسری قسم کے سوالات عقیدے سے تعلق کی عقلی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں اور ایمانی شعور میں اضافہ کرتے ہیں۔ جب کسی مسلمان کو یہ علم ہو جاتا ہے کہ سجدہ طویل کرنے سے یا روزہ رکھنے سے بہت سے طبّی اور جسمانی فوائد حاصل ہوتے ہیں تو یہ علم اس کے ایمان اور نیت کی پاکیزگی کے لیے امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔

تیسری قسم کے سوالات عملی زندگی کے معاملات اور مسائل میں عقیدے سے انسان کے تعلق کو زندہ رکھتے ہیں اور چیزوں کو ایمانی تناظر میں برتنے کے قابل بناتے ہیں۔ ان سوالات میں عملی پہلو عیاں ہوتا ہے۔ مثلا میں اپنے وقت کا استعمال کیسے کروں؟ زندگی کا کتنا وقت معاشی سرگرمیوں میں وقف ہونا چاہیے؟ نیکی اور بدی کسے کہا جائے؟ وغیرہ وغیرہ۔۔
صاحب ایمان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تیسری قسم کے سوالوں کو بھی اپنے ایمانی تناظر میں پرکھتا رہے، عصری پیمانوں پر نہیں۔ یعنی کامیاب انسان کی جو تعریف زمانہ متعین کرتا ہے اور جو تعریف ایمانی شعور کے نتیجے میں سامنے آتی ہے وہ ایک نہیں ہوتی۔

ہمارے سب سے بڑے مسائل ایمان اور تناظر کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ خود کو تنہا سمجھنا دراصل تناظر کی خرابی کا مسئلہ ہے۔ تناظر کی کمزوری کبھی ضعِف ایمان اور کبھی بنیادی سوالات سے گریز کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں مسلمان بصیرت اور فرقان سے محروم رہتا ہے اور اپنی زندگی غالب تہذیب کے تناظر میں گزار کر دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔

تناظر کی صحت اس بات سے مشروط ہے کہ عقیدہ کے دائرے کو زندگی کے دائرے پر پوری طرح پھیلا دیا جائے۔ خدائے واحد نے ہم سے زندگی کا ہر لمحہ حالت عبادت میں طلب کیا ہے اور اسی کو ہماری تخلیق کا مقصد قرار دیا ہے۔ عبادت کا دائرہ کار پانچ فرائض تک محدود کرنے سے زندگی، دین سے باہر نکل جاتی ہے۔ جس کی کسی صورت اجازت نہیں۔
معاشرے کا سب سے بڑا زوال تہذیبی ہوتا ہے، معاشی یا سیاسی نہیں! کسی بھی معاشرے میں جب بنیادی سوالات ہونا بند ہوجائیں تو وہ تہذیبی اعتبار سے زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ ان میں وہ سوالات بھی شامل ہیں جن کا میں نے ان پر تبصرہ کیا ہے اور ذیل والے سوالات بھی شامل ہیں۔

عہد قدیم کے جھوٹے خدا کون تھے؟ عہد جدید کے جھوٹے خدا کون ہیں؟ عہدِ جدید میں خدائے واحد پر یقین رکھنے والوں کے لئے جھوٹے خداوں سے واقفیت کیوں ضروری ہے؟ عقیدے اور ایمان کو متاثر کرنے والے عوامل کون سے ہیں؟ یہ سوالات ان چند سوالوں میں سے ایک ہیں جو اس کتاب کے اندر بیان کئے گئے ہیں۔

آج کے مسلمان نے اللہ کو اپنا مسجود تو بنایا ہے لیکن معبود نہیں! اس نے اپنی زندگی کے بہت سے دائروں سے اللہ کو نکال دیا ہے. اللہ اس کے شعور کا سب سے بڑا حوالہ نہیں رہا. یہاں پر میں ایک واقعہ آپ سب کے سامنے رکھنا چاہوں گی جو کہ میں نے خود اس کتاب کے اندر سے پہلی مرتبہ پڑھا ہے.
مولانا روم نے غلام اور مالک کے تعلق سے ایک حکایت بیان کی ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک غلام کے اخلاص اور وفاداری کے باعث اس کے امیر کو اس سے بہت محبت تھی۔ اس کے سامنے جب بھی کوئی کھانے کی چیز لائی جاتی تو وہ سب سے پہلے اپنے غلام کو دیتا اور پھر خود کھاتا۔ ایک دن کسی دوست نے بڑا خوش رنگ خربوزہ تحفے میں بھیجا۔ امیر نے اپنے ہاتھ سے ایک قاش غلام کو دی۔ غلام نے مزے لے لے کر وہ قاش کھائی۔ امیر نے دوسری قاش کاٹ کر اسے دی۔ غلام نے وہ بھی بہت شوق سے کھائی۔ پھر اس نے تیسری کاش دی اور پھر چوتھی۔ حتیٰ کہ اب آخری قاش بچ گئی تو امیر نے کہا، معلوم ہوتا ہے کہ یہ خربوزہ بہت شریں ہے۔ جی چاہتا ہے کہ یہ آخری قاش خود کھاؤں۔ غلام نے وہ آخری قاش بھی کھانے جی خواہش ظاہر کی، لیکن امیر نے نہ دی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔ قاش کا منہ میں رکھنا تھا کہ سارا منہ خلق تک کڑوا ہوگیا۔ اس نے جلدی سے تھوک کر پانی کی کلیاں کی۔ پھر دیر تک اس کی کڑواہٹ نہ گئی اور منہ کا مزہ خراب رہا۔ پھر اس نے نہایت تعجب سے غلام کو دیکھا اور پوچھا کہ تم نے اتنا کڑوا خربوزہ اتنے شوق و رغبت سے کیوں کھایا ؟ اور اپنے چہرے سے بھی اس کا بد ذائقہ ہونے کا احساس تک نہ ہونے دیا ۔ تم کوئی بہانہ بھی تو کرسکتے تھے۔ غلام نے جواب دیا کہ میں نے ہمیشہ آپ کے نعمت بخشنے والے ہاتھ سے اتنا اچھا کھایا ہے، صد حیف مجھ پر کہ کڑوا خربوزہ کھانا ناشکری کرو یا شکایت سے اپنی زبان آلودہ کروں۔ بس بندوں سے ایسا ہی اخلاص اور وفاداری خدائے واحد کو مطلوب ہے اسی کو جذبہ عبوبیت کہتے ہیں۔

اس کتاب کا عنوان ہی کافی دلچسپ ہے۔ پڑھنے سے قبل میرے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ یہ جھوٹے اور سچے خدا کون ہیں؟ اس سوال کو جتنے احسن انداز میں اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے شاید میرے لیے یہاں پر الفاظ کی قلّت کی وجہ سے بیان کرنا مشکل ہوگا۔
دراصل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں خانہ کعبہ کے اندر تین بڑے بت تھے جن جو آپ نے توڑے تھے۔ ان کے نام لات، منات اور عزیٰ تھے۔ اب یہاں کچھ باتیں قابلِ غور ہیں۔ باہر سے اللہ کے گھر کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے خود لے رکھی ہے۔ اللہ کے گھر سے بتوں کو نکالنے کی ذمہ داری اللہ نے ہمیں دے رکھی ہے اور اپنے اندر سے بتوں کو نکالنے کی ذمہ داری بھی اللہ نے ہمیں سونپ رکھی ہے۔ اپنے اندر سے کا مطلب یہ ہے کہ بتوں سے ہر قسم کی امید، توقع اور محبت کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ اسی طرح کچھ بت ایسے ہیں جن کو آنکھوں سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ یہ بت سینوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ ان بتوں کو پہچاننا اور ان کی مرعوبیت سے اپنے دلوں کو پاک رکھنا بھی مسلمان کی اہم ذمہ داری ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسئلے کی نشان دہی بہت واضح مثال کے ذریعے فرمائی۔ آپ نے فرمایا : "کہ وہ دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے گئے ہو، ان بکریوں کو اس سے زیادہ تباہ نہیں کر سکتے جتنا تباہ آدمی کے دین کو حبِ مال اور حبِ عزت و جاہ کرتی ہے۔” (جامع ترمزی رقم الحدیث- 2376)

جدید مغربی تہذیب اور اس کے پیدا کردہ نتائج بندگی سے مزاحم ہونے والی بہت بڑی قوت بن چکے ہیں۔ دور حاضر میں بندگی کے راستے کی بہت بڑی مزاحمت کا نام سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) ہے۔ اس وقت مزہبی اور غیر مذہبی معاشرے اس کا حصہ ہیں۔ درحقیقت جب کوئی برائی تہذیبی شکل اختیار کر لے تو اس کو برائی کے طور پر شناخت کیا جانا دشوار ہو جاتا ہے۔ اس وقت دین کا سب سے بڑا دشمن کوئی منکرِ مزہب انسان نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی اقدار ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متنبہ فرمایا تھا کہ میری امت کا فتنہ مال ہے۔ اور سرمایہ دارانہ نظام اس فتنے کی تہذیبی شکل ہے۔ اگر موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھا جائے تو آج اللہ نے پھر اپنی قدرت کا جلوہ دکھایا ہے اور سرمایہ داری کے لشکر کو، جو بھرپور طاقت اور شوکت و جلال کے ساتھ حرکت کر رہا تھا اسے آنکھ تو کیا مائیکروسکوپ سے بھی نظر نہ آسکنے والے وائرس سے ساکت کردیا۔ انسان کسی بھی ایسے مسئلے میں اپنے خدا کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ اسے بچا لے گا۔ حقیقت میں کسی انسان کا خدا وہی ہوتا ہے جس پر اس کو غیر مشروط بھروسا ہو اور جس سے اسے مشکل کشائی اور حاجت روائی کی توقع ہو۔ افسوس کے ساتھ جدید انسان سائنس اور سرمائے سے ایسے ہی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ دراصل کرونا کے آنے کی وجہ سے سب سے بڑی ضرب سرمایہ دارانہ نظام کو لگی تھی۔ ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب بڑے بڑے بت کسی وجہ سے مثلاً زلزلے وغیرہ سے گر گئے یا ٹوٹ گئے تو اس کے نتیجے میں اس پوری قوم میں جو اس بت کو پوجتی تھی، غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔ آج کے دور میں سرمایا داری کے بت کو ہلکا سا جھٹکا لگا تھا اور سب پریشانی میں مبتلا ہو گئے تھے۔

دراصل ہر انسان کی فطرت کے اندر یہ بات موجود ہے کہ وہ کسی ایسی غیر مرئی ذات پر ایمان رکھے جو سب سے بااختیار اور دنیا کی ہر طاقت سے زیادہ قدرت والی ہو۔ جب انسان کسی ایسے مسئلے میں پھنس جاتا ہے اور اسے پتہ چل جاتا ہے کہ جس کو اس نے خدا بنایا ہوا ہے اس سے کام نہیں بنے گا تو یہ اس کےلئے اس جھوٹے خدا کو چھوڑنے کا موقع ہوتا ہے۔ کیونکہ اب تو اس کو معلوم ہوگیا کہ یہ فلاں فلاں خدا کچھ نہیں کرتے لہٰذا اب وہ یہ سمجھنے اور ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ان جھوٹے خداؤں کو چھوڑ کر حقیقی خدا کی طرف پلٹا جائے۔

مسئلہ یہاں پر یہ آتا ہے کہ جھوٹے خدا جدید انسان کی نئی مشکلات کو کو حل کرنے میں اہل اور کافی ثابت نہیں ہو رہے ہیں اور دوسری جانب خدائے واحد کے انکاریوں کا اپنے نظام پر سے اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں انکار کرنے والوں کے لیے، تسلیم کرنے کا بہت بڑا امکان پیدا ہو رہا ہے اور ماننے والوں کے لئے، ایمان کا امتحان! لیکن خدا کو نہ ماننے والوں کا مسئلہ سمجھے بغیر نہ تو مسلمان اپنی نااہلیوں کا ادراک کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی دینی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ انکار کرنے والوں کی اکثریت کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام سے ہٹ کر کوئی ایسا طرز زندگی ممکن ہے جو دنیا بھر کے انسانی معاشروں کے مادی اور غیر مادی ضروریات کا احاطہ کر سکتا ہے۔

اگر مسلمان میں اخلاص موجود ہے تو وہ یہ بات تسلیم کرے گا کہ آج کے مسلمان کا قصور خدا کو نہ ماننے والوں سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ وہ خدا کو نہ ماننے والوں سے علمی اور اخلاقی اعتبار سے بہتر نہیں ہیں اور ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی ہر حوالے سے غیر مسلموں سے زیادہ ابتر ہے ان کے پاس دنیا کے بڑے مسائل کا حل اپنے ایمان تناظر میں دینے کی صلاحیت نہیں۔ وہ خود اس باطل نظام کے اس طرح اسیر ہیں کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں اس سے ہٹ کر کچھ تصور کرنا ہے ان کے لیے دشوار ہے۔ ضعفِ ایمانی اور علم کی کمی کے باعث وہ بھی یہ مان چکے ہیں کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل سائنس کی کوکھ سے جنم لے گا۔ مذہب کا کام تو محض نماز، روزہ، وضو و غسل اور جنازہ کے مسائل سمجھانا ہے۔ اپنی ان تمام خرابیوں کی وجہ سے وہ اسلام کے راستے کی سب سے بڑی دیوار بن گئے ہیں۔ خدا کو نہ ماننے والے اگر مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی دیکھ کر خدا سے بد ظن اور مذہب سے بیزار ہو گئے ہیں تو اس کا سوال مسلمانوں سے بھی تو کیا جائے گا آئے گا۔ اللہ ہمارا حساب آسان فرمائے۔

وہی حرم ہے، وہی اعتبار ِ لات و منات
خدا نصیب کرے تجھ کو ضربت کاری

3
0 کمینٹ

ریلیٹڈ آرٹیکلز

کمینٹ کریں