سوہنی مہینوال : معصوم محبت کی مجبور کہانی از شیخ عبدالرشید - نو رنگ
مرکزی صفحہ اردو نثر سوہنی مہینوال : معصوم محبت کی مجبور کہانی از شیخ عبدالرشید

سوہنی مہینوال : معصوم محبت کی مجبور کہانی از شیخ عبدالرشید

by نو رنگ
68 کمنٹس 0 ویوز

پرانے قصے ,علاقائ داستانیں اور مقامی کہانیاں ہمیشہ سے ہی انسانی دلچسپی کا محور رہی ہیں ۔یہ کہانیاں عقل سے زیادہ تخیل کی مرہون منت ہوتی ہیں۔ لوک داستانیں انسانوں کی نامکمل خواہشوں کا عکس ہوتی ہیں اس لیے ہر سماج ,قوم اور ملک میں انسانوں کی اجتماعی فکر کی روایت کو لوک ادب نے ہی محفوظ رکھا ہے۔ یہ داستانیں کسی قوم کی تہذیب و ثقافت کے ادب کے بچپن کی پیداوار ہوتی ہیں اور اس کے اعلیٰ ترین ادب کی بنیاد بنتی ہیں, کیونکہ لوک داستانوں میں معاشرے کی اجتماعی روح کارفرما ہوتی ہے ۔ یہ ادب عام آدمی کے لاشعور کا عکاس ہوتا ہے جس میں مقامی ثقافتی شعور اور اجتماعی دانش کی جاذبیت بھی نمایاں ہوتی ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ یہ مغل بادشاہ شاہجہان کے عہد کی بات ہے ۔دریائے چناب کے کنارے آباد شہر گجرات ظروف سازی کے حوالے سے منفرد مقام و شہرت رکھتا تھا۔دریاوں کے کناروں پر چکنی مٹی کی وافر مقدار نے ظروف سازوں کو ہمیشہ اپنے ارد گرد ہی رکھا۔اس دور میں گجرات کے ایک ظروف ساز کمہار عبداللہ المعروف” تلا ” کی کوزہ گری کا ڈنکا خوب بجتا تھا ۔اس کے فنی کمالات کی بدولت اس کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئ تھی اور وہ شہر کا دولتمند کاروباری شخص تھا۔شہرت و دولت کے ساتھ ساتھ قدرت نے اسے ایک خوبصورت بیٹی کی نعمت سے بھی نواز رکھا تھا۔ اس کا نام ہی سوہنی تھا ۔وہ نام کی ہی سوہنی نہیں تھی بلکہ پُرکشش حُسن و جمال کا پیکر تھی۔اس کی خوبصورتی کے چرچے بھی زبان زد عام تھے۔

اسی زمانے میں ازبکستان کے شہر بلخ بخارا میں ایک تاجر مرزا عالی نامی بہت دولتمند تھا۔ اس کے پاس سب کچھ تھا لیکن وہ اولاد کی رحمت سے محروم تھا۔ ایک درویش بزرگ کی دعا سے اس کے گھر بیٹے کی پیدائش ہوئ ۔منت و مراد کے حاصل اس خوبرو بچے کی پرورش بڑے ناز و پیار سے کی گئ ۔ اچھی تربیت کے سبب یہ نوجوان بڑا ہنر مند, مشاق تیرانداز, اور موسیقی سے خصوصی رغبت رکھنے والا تھا۔ مرزا عالی اپنے بیٹے مرزا عزت بیگ کو سنبھال سنبھال کر رکھتا تھا۔ عزت بیگ بڑا ہوا تو اس نے دہلی کی شہرت سن کر والد سے درخواست کی کہ وہ اپنے تجارتی قافلے کے ہمراہ جا کر دہلی دیکھنا چاہتا ہے ۔والد نے بیٹے کو بھیجنے سے پس و پیش سے کام لیا لیکن اس کے اصرار پر اجازت دینا ہی پڑی۔ مرزا عزت بیگ اپنے تجارتی قافلے کے ساتھ دلی آیا ,شاہی دربار سمیت شہر دیکھا ۔بڑے تاجر کا بیٹا ہونے کے ناطے اسے بہت عزت اور احترام ملا ۔دلی کے بعد اس نے قافلے کے ہمراہ دوسرے مشہور شہر دیکھنے کا بھی پروگرام بنایا ۔اس طرح وہ لاہور دیکھنے پہنچا اور واپسی پر تھا کہ ایک شہر کے کنارے اسے شام ہو گئ تو قافلے نے دریائے چناب کے پاس پڑاؤ کیا ۔ قافلے والے تاجر ساتھیوں نے اسے بتایا کہ یہ چھوٹا مگر ظروف سازی کے حوالے سے مشہور شہر گجرات ہے اور یہاں کے تلا کمہار کے برتن ہندوستان اور ہندوستان سے باہر بھی مشہور ہیں۔ ساتھ ہی اس کی بیٹی سوہنی کے حسن و جمال کا بھی بڑا ذکر کیا ۔اس سے عزت بیگ کو سوہنی کو دیکھنے کا تجسس ابھارنے لگا ۔ اگلی صبح وہ برتنوں کی خریداری کے لیے تلے کمہار کی دکان پر پہنچا اور برتن دیکھنے لگا۔ اسے برتنوں سے کوئ دلچسپی تھی نہیں , عبداللہ کمہار کی صنعت گری کی طرف اس کا دھیان ہی نہیں جاتا تھا۔وہ تو قدرت کے کرشمے سوہنی کو دیکھنے آیا تھا اور سوہنی وہاں تھی ہی نہیں ۔ تھوڑی دیر بعد اچانک گھر والی طرف سے سوہنی بھی دکان پر آگئ ۔ عزت بیگ نے اسے دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا ۔سوہنی اسے برتن دکھانے لگی۔ مگر عزت بیگ تو پہلی نظر میں ہی اپنا دل ہار بیٹھا تھا۔ یہ پہلی نظر کی محبت بھی عجیب چیز ہے ۔سائنس اور طب کی آج تک کی ساری جدید تحقیق بھی پہلی نظر کی محبت کا علاج یا تریاق دریافت نہ کر سکی ہے ۔ عزت بیگ سوہنی کا فریفتہ ہو گیا۔ چناب کے زرخیز کنارے ,اودھے نگری کی عشق خیز سرزمین پر محبت کا بیج ایک ہی ساعت میں لگا, اُگا ,اور پھل پھول گیا ۔ عزت بیگ یہیں کا ہو کر رہ گیا .مال و اسباب کی فراوانی تھی چنانچہ اس نے دیدار یار کے لیے روزانہ کی بنیاد پر برتنوں کی خریداری شروع کر دی ۔ جب ان کے پاس برتن کافی ہو گئے اور رکھنے کی جگہ نہیں رہی تو اس نے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ ان کا کیا کیا جائے ۔ایک ساتھی نے مشورہ دیا کہ انہیں فروخت کر دیتے ہیں ۔عزت بیگ کو بات بھائ اس طرح انہوں نے بازار میں , تلا کمہار کی دکان سے زرا دور اپنی دکان لگا لی اور مہنگے داموں برتن خرید کر انہیں سستے داموں بیچ دیا جاتا ۔ آہستہ آہستہ ان کے پاس پیسے ختم ہونے لگے ۔قافلہ والے ساتھیوں نے واپسی کا اصرار کیا لیکن عزت بیگ سوہنی کو پائے بغیر واپس جانے پر تیار نہ ہوا تو چند ساتھیوں کے علاوہ باقی قافلہ واپس چلا گیا۔ عزت بیگ کے مالی حالات خراب ہوئے تو وہ ایک بار پھر تلا کمہار کے در پر ہی آیا اور بتایا کہ اس کا نقصان ہو گیا ہے مقروض ہو گیا ہوں ۔قرض کی ادائیگی ممکن نہیں۔ اس کے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں اس لیے اسے صرف رہنے کی جگہ اور کھانے پر نوکر رکھ لے ۔ تلا کمہار نے اسے گھریلو کام کاج کے لیے رکھ لیا اور پھر اسے بھینسیں چرانے کا کام دے دیا ۔ پنجاب میں بھینسوں کو مہیں کہتے ہیں اس لیے بھینسیں کی چروائ پر اسے مہینوال کہا جانے لگا یعنی بھینسیں چرانے والا۔ اسی دوران سوہنی کو بھی پوری طرح معلوم ہو گیا کہ عزت بیگ کی یہ حالت اس کی وجہ سے ہوئ ہے ۔وہ اسکی تباہ حالی اور خستگی دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوئ اور تڑپ کر رہ گئ۔ اس کا دل بھی عزت بیگ کے لیے دھڑکنے لگا ۔ان کے درمیان ملاقاتوں کے تواتر کی بازگشت ارد گرد بھی سنائ دینے لگی ۔ اِدھر اُدھر سے ہوتی ہوئ باتیں سوہنی کے گھر والوں تک پہنچیں تو انہوں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے مہینوال کو نوکری سے نکال دیا اور سوہنی پر بھی سختی کر دی ۔ عزت بیگ نوکری سے فارغ ہوا لیکن دل تو وہیں رہ گیا۔ چنانچہ وہ دریا کے دوسرے کنارے پر فقیر بن کر بیٹھ گیا۔ دوسری طرف سوہنی کے ماں باپ نے آو دیکھا نہ تاؤ اور فوری جلالپور جٹاں کی طرف دریا کنارے گاؤں رالیالہ میں برادری میں سے ایک لڑکا دیکھا اور سوہنی کا بیاہ منصور بہزاد کی تحقیق کے مطابق سوہنی کے کزن ڈم سے کر دیا۔ سوہنی سماجی قدغنوں کے سامنے بے بس مرتی کیا نہ کرتی ۔ وہ اپنے دولہا کے ساتھ چلی گئ ۔کہتے ہیں کہ اس نے اللہ سے دعا کی کہ وہ عزت بیگ کی امانت ہے ۔اس کے لیے میری حفاظت کرنا ۔ دعا قبول ہوئ ۔ شادی کے بعد پتہ چلا کہ اس کا خاوند ایک بیماری میں مبتلا ہے اور بانجھ ہے ۔ مہینوال سوہنی کی شادی کی خبر سن کر دلبرداشتہ تھا کہ ایک روز اسے سوہنی کی ایک سہیلی ملی اور اس نے سوہنی کی محبت اور وفاداری کا پیغام اسے دیا۔ جس سے مہینوال کے عشق کی چنگاری پھر بھڑک اٹھی۔ پیغام رسانی کے بعد مہینوال رات کو دریا پار کر کے سوہنی سے ملاقات کے لیے آنے لگا ۔ وہ روزانہ آتے ہوئے تازہ مچھلی بھون کر اس کے لیے ساتھ لے کر آتا۔ سلسلہ چلتا رہا کہ ایک روز مہینوال معمول کے مطابق آیا تو نحیف اور زخمی زخمی لگ رہا تھا اس نے کباب سوہنی کو دیے تو اس نے کھا کر کہا کہ یہ روز کی مچھلی کی طرح مزیدار نہیں ہیں ۔۔اور پھر اس کی نقاہت اور خون رسنے کا پوچھا تو معلوم ہوا کی آج مہینوال کو مچھلی نہیں ملی تو اس نے اپنی ران سے گوشت کاٹ کر کباب بنا لیے اور اس کے لیے لے کر آیا ہے ۔ سوہنی اس کا انداز محبت دیکھ کر دھنگ رہ گئ اور کہا کہ تمہیں زخمی حالت میں دریا پار نہیں کرنا ۔کل سے میں تمہیں ملنے آؤں گی ۔وہ تیرنا نہیں جانتی تھی چنانچہ اس نے ایک گھڑا لیا اور رات کو اسے ملنے گھڑے کے سہارے دریا پار پہنچی ۔واپسی پر دریا کنارے جھاڑیوں میں گھڑا رکھ دیتی اور اگلی رات اسے لے کر دریا پار کرلیتی ۔ایک روز اس کی نند جاگ رہی تھی اس نے سوہنی کو جاتے دیکھا تو اس کا چپکے چپکے پیچھا کیا کہ وہ کیا کرتی ہے , کہاں جاتی ہے ۔ سب دیکھنے کے بعد اس نے سوہنی کے خلاف گھناونا پلان بنایا ۔غیرت ,حسد اور جلن کی ملی جلی کیفیت میں نند نے اگلے دن چپکے سے ایک نیم پکا کچا گھڑا سوہنی کے گھڑے کی جگہ رکھ دیا اور اس کا گھڑا اٹھا لائ ۔اگلے روز موسم خراب تھا,آسمانی بجلیاں کڑک کڑک کر نند کی سازش کا حال بیان کر رہی تھیں ۔تاریک فضا میں مہیب بادل نند کی چال کی گہرائ بتا رہے تھے ۔لیکن کیا کہنے عاشقوں کے ,محبت اندھی ہی نہیں بہری بھی ہوتی ہے۔ دل والوں کو چین نہیں آتا ۔ ,موسم کی خرابی کے باوجود وہ معمول کے مطابق رات کو اٹھی اور جا کر اپنا گھڑا اٹھایا ۔اسے شک ہوا کہ یہ وہ گھڑا تو نہیں لیکن تاریکی اور بے قراری کے باعث وہ جلدی جلدی گھڑے کو لے کر ماہی سے ملنے دریا میں کود گئ ابھی تھوڑی دور ہی گئ تھی کہ اسے گھڑے کے پگھلنے کا احساس ہونے لگا اب دریا کی تیز لہریں اسے بہانے لگیں تو اس نے زور زور سے مہینوال کو آوازیں دینا شروع کر دیں ۔ مہینوال نے کچھ انتظار کیا لیکن سوہنی نہ پہنچی تو اس کو بچانے کے لیے سوہنی سوہنی پکارتے دریا کی تلاطم خیز موجوں میں کود گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا , کیسے ہوا , یہ سب کون کہے اور کون سنے ۔۔۔ دریا کی بہتی موجوں کا رزق ہو کر دونوں امر ہو گئے۔ گنیش داس بیڈھیرا کا کہنا ہے کہ رالیالہ گاؤں کے قریب ہی سوہنی مہینوال ملتے تھے ۔اس روز ڈوبتے وقت سوہنی نے رالیالہ کے لوگوں کو بد دعا دی تھی شاید اسی لیے آنے والے دنوں میں یہ گاؤں دریا برد ہوگیا ۔اور گنیش داس کے مطابق اب صرف اس کا نام باقی رہ گیا ہے ۔رالیالہ اس وقت کی انتظامی تقسیم کے مطابق ٹپہ جیوا وڑائچ کا حصہ تھا۔جس میں اس وقت 18 دیہات شامل تھے ۔

لوگ پوچھتے ہیں ان کی لاشیں کدھر گئیں ؟ کہا جا سکتا ہے کہ چناب کا بہاؤ سوہنی مہینوال کی اجتماعی قبر بن گیا۔ تاہم اس حوالے سے بھی کئ روایات ہیں۔ پنجاب کے دریا ایک مقام پر دریائے سندھ میں ملتے ہیں اس لیے گمان یہی ہے کہ گہرے پانی کی تیز لہریں انہیں بہاتے ہوئے سندھ لے گئیں۔ سندھ کے شہر شہداد پور میں دو لاشیں پانی میں بہتی ہوئ ملیں جنہیں ایک بیان کے مطابق کچھ لوگوں کی شناخت کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا ۔ایک روایت کے مطابق دونوں کو اکٹھے ایک ہی جگہ دفن کیا گیا لیکن یہ روایت ہماری تہذیبی اور ثقافتی روایات سے متصادم ہے اس لیے شہداد پور میں الگ الگ مقام پر دو قبریں ہیں ۔ مائ سوہنی کے قبرستان میں سوہنی کا مزار ہے اور پر ہجوم سنار بازار کے درمیان مہینوال کی قبر ہے ۔شاہ لطیف اکثر سوہنی کے مزار پر حاضری دینے آتے اور ساری ساری رات گاتے رہتے تھے ۔عقیدتمند اس مزار کو محبت کا مندر سمجھتے ہیں ۔محبت کرنے والے آج بھی وہاں آتے ہیں اور سوہنی کے قدموں میں دیے جلاتے ہیں ۔ سندھ میں قبریں ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ یہ خیال رکھتے ہیں کہ یہ وسطی پنجاب کے گجرات کا قصہ نہیں ہے بلکہ سرائیکی وسیب کے قصبہ گجرات کی بات ہے ویاں سے لاشیں بہہ کر سندھ پہنچی تھیں ۔لیکن داستان کے باقی رنگوں کی خوشبو جنوبی پنجاب کے قصبہ گجرات سے نہیں آتی ۔

سوہنی مہینوال کو امر کر دینے والے چناب کو عاشقوں کے دریا کی شہرت بھی اسی داستان کی وجہ سے ملی ۔سوہنی مہینوال کی داستان پنجاب اور سندھ کے چوپالوں کی صدیوں پرانی کہانی ہے ۔اسے پنجاب کی سب سے زیادہ غمزدہ اور المیہ رومانوی داستان بھی کہا جا سکتا ہے ۔ ایسی داستانیں محض لوگوں کی تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ ذہنی و نفسیاتی تربیت کا وسیلہ بھی ثابت ہوتی ہیں ۔ یہ حساس طبع شعراء اور قلمکاروں کا پسندیدہ موضوع رہا ہے ۔بیسیوں شعراء و لکھاریوں نے اس کو اپنی تخلیقات کا محور بنایا ہے ۔ پنجابی میں فضل شاہ ,میاں محمد بخش ,ہاشم شاہ , مولوی رکن الدین و دیگر نے فارسی میں پہلی مرتبہ 1841ء میں محمد صالح نامی شاعر نے اسے موضوع بنایا ۔سرائیکی میں 1857ء کے لگ بھگ امام بخش شیروی بعد ازاں احمد بخش غافل وغیرہ نے اس پر لکھا۔ لوک ادب سماجی حدود پھلانگ کر محبت و الفت کے عہد و پیمان نبھانے والوں کو ہیرو اور ہیروئین کے طور پر پیش کرتا ہے ۔جس کردار کو افراط و تفریط کا شکار سماج نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے وہی کردار لوک ادب کی جان بن جاتا ہے ۔سوہنی مہینوال جیسی لوک داستان بظاہر عشقیہ المیہ ہے لیکن اس سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ انسان نے اپنی رومانوی ترقی کو کسی عہد اور کسی حال میں بھی نظر انداز نہیں کیا۔ان داستانوں کے رقم ہونے کے ادوار کا ناقدانہ جائزہ بتاتا ہے کہ اس دور میں پنجاب سماجی تغیر و تبدیلی کے عمل سے گزر رہا تھا۔اسی لیے مہینوال کی موت کو ایک تہذیب کا خاتمہ اور دوسری تہذیب کی ابتداء قرار دیا جاتا ہے ۔ عام طور یہی کہا جاتا ہے کہ مرد عورت کے لیے آسمان سے تارے بھی توڑ لاتا ہے لیکن عورت کیا کرتی ہے ؟ ۔ اس داستان میں عورت اپنے ماہی کے لیے کچے گھڑے پر تیر جاتی ہے ۔جان کی پرواہ نہیں کرتی اور عورت کے بارے پرانے اسطوروں پر پانی پھیر دیتی ہے ۔۔فضل شاہ نے عشق کے محاورے میں مہینوال کو مغلیہ تہذیب کے زوال کی علامت بنا کر پیش کیا ہے ۔سوہنی مہینوال سمیت لوک داستانیں اصل میں لوکائ کی سچی تاریخ ہیں ۔ ان داستانوں سے آگاہی کے بغیر عوامی فکر کا ارتقاء ممکن نہیں۔ لوک ادب کا فہم ہمیں مضبوط فکر انسان بنا سکتا ہے ۔اسی کی بدولت ہم کئ گمشدہ حقیقتوں کو تلاش کرنے کی ہمت اور جرأت کر پائیں گے ۔ہماری آج کی نسل کا سب سے بڑا مسئلہ تخیل ہے ۔ کمزور تخیل کی وجہ سے ہم دوسروں کے ذہنوں سے سوچنے پر مجبور ہیں ۔ تخیل کی پرواز کے بغیر عمل کی تعبیر ممکن نہیں ۔نئ نسل کو سوچنے ,غوروفکر کرنے اور ان کی قوت تخیل کو مستحکم کرنے کے لیے انہیں لوک داستانوں سے متعارف کروانا ناگزیر ہے تاکہ مضبوط تخیل جنم لے سکے۔

1
68 کمنٹس

ریلیٹڈ آرٹیکلز

68 کمنٹس

Attique ستمبر 15, 2020 - 3:57 شام

One of the best Punjabi Folk love stories ♥️

جواب دیں
cheap flights فروری 1, 2021 - 8:42 صبح

Hello there! This is kind of off topic but I need some advice from an established blog.
Is it very difficult to set up your own blog? I’m not very techincal but I can figure
things out pretty fast. I’m thinking about creating my own but I’m not sure where to start.
Do you have any points or suggestions? Many thanks

جواب دیں
tinyurl.com فروری 3, 2021 - 6:12 شام

Hi, I do think this is an excellent site. I stumbledupon it
😉 I will revisit once again since i have bookmarked it.
Money and freedom is the greatest way to change, may you be
rich and continue to help others.

جواب دیں
http://tinyurl.com/ فروری 12, 2021 - 6:05 صبح

Hey there! I could have sworn I’ve been to this site before but after browsing through
some of the post I realized it’s new to me. Nonetheless, I’m definitely happy I found it and I’ll be
book-marking and checking back frequently!

جواب دیں
http://tinyurl.com/yy5ha6wt فروری 12, 2021 - 8:31 صبح

Your style is very unique compared to other people I have read
stuff from. Thanks for posting when you have the opportunity, Guess I’ll
just bookmark this page.

جواب دیں
http://tinyurl.com/yanpjltl مارچ 10, 2021 - 9:50 صبح

Excellent, what a weblog it is! This website gives helpful facts to us,
keep it up.

جواب دیں
popaholics.net مارچ 10, 2021 - 2:06 شام

When someone writes an paragraph he/she keeps the idea of a user in his/her mind that how
a user can know it. Thus that’s why this piece of writing
is perfect. Thanks!

جواب دیں
gamefly مارچ 15, 2021 - 8:41 صبح

Greetings! I’ve been following your web site for some time
now and finally got the bravery to go ahead and give you a shout out from
New Caney Texas! Just wanted to say keep up the good work!

جواب دیں
http://bit.ly/3vlnZ0u مارچ 15, 2021 - 10:08 صبح

It’s genuinely very complex in this full of
activity life to listen news on Television, therefore I just use
the web for that reason, and get the latest information. ps4 games 185413490784 ps4
games

جواب دیں
coconut oil مارچ 16, 2021 - 7:04 صبح

Good day! This is my first visit to your
blog! We are a collection of volunteers and starting a new initiative in a community in the same niche.

Your blog provided us useful information to work on. You have done a marvellous job!

ps4 games 185413490784 ps4 games

جواب دیں
http://tinyurl.com/yfa3a98t مارچ 16, 2021 - 8:13 صبح

Howdy! I could have sworn I’ve been to this site before but after browsing through some of the posts I realized it’s new
to me. Nonetheless, I’m certainly delighted I came across it and I’ll be book-marking it and checking back often! ps4
games allenferguson ps4 games

جواب دیں
zortilonrel مارچ 18, 2021 - 2:00 شام

I am really impressed with your writing skills as well as with the layout on your blog. Is this a paid theme or did you customize it yourself? Either way keep up the excellent quality writing, it’s rare to see a great blog like this one today..

جواب دیں
http://tinyurl.com/yekmf7w6 مارچ 18, 2021 - 3:50 شام

Excellent web site. A lot of useful information here.
I’m sending it to several buddies ans additionally
sharing in delicious. And of course, thanks on your sweat!

جواب دیں
tinyurl.com مارچ 18, 2021 - 4:26 شام

Wonderful blog! I found it while surfing around on Yahoo News.
Do you have any tips on how to get listed in Yahoo News?
I’ve been trying for a while but I never seem to get there!
Thank you

جواب دیں
tinyurl.com مارچ 19, 2021 - 2:54 صبح

Its not my first time to go to see this website, i am browsing this web site dailly and take nice data from here daily.

جواب دیں
tinyurl.com مارچ 19, 2021 - 6:11 صبح

My relatives always say that I am wasting my time here at web, except I know I am getting familiarity all the time by reading such
nice content.

جواب دیں
web hosting مارچ 19, 2021 - 3:44 شام

Having read this I believed it was really informative.
I appreciate you spending some time and energy to put this information together.
I once again find myself spending a significant amount of time both reading and leaving comments.
But so what, it was still worthwhile!

جواب دیں
tinyurl.com مارچ 22, 2021 - 2:22 صبح

I’ve been exploring for a bit for any high quality articles or weblog posts on this kind of space .
Exploring in Yahoo I finally stumbled upon this site. Reading this information So i am happy to exhibit that I have a
very just right uncanny feeling I found out just what I needed.
I such a lot surely will make sure to do not fail to remember
this web site and provides it a look on a relentless basis.

جواب دیں
web hosting مارچ 22, 2021 - 3:42 صبح

I loved as much as you’ll receive carried out right here.
The sketch is attractive, your authored material stylish.
nonetheless, you command get got an edginess over that you wish be delivering the following.
unwell unquestionably come more formerly again since exactly the same nearly a lot often inside case you shield this
hike.

جواب دیں
tinyurl.com مارچ 22, 2021 - 1:57 شام

After looking into a number of the articles on your
website, I truly like your technique of blogging. I book-marked it to my bookmark website list and
will be checking back soon. Take a look at my
website as well and tell me what you think.

جواب دیں
tinyurl.com مارچ 22, 2021 - 2:01 شام

Very shortly this web site will be famous among all blogging and site-building viewers, due to it’s
good articles or reviews

جواب دیں
tinyurl.com مارچ 23, 2021 - 4:32 صبح

I know this if off topic but I’m looking into starting my own blog and was curious what all
is required to get setup? I’m assuming having a blog
like yours would cost a pretty penny? I’m not very web smart so I’m not 100% sure.
Any recommendations or advice would be greatly appreciated.
Thank you

جواب دیں
minecraft games مارچ 23, 2021 - 8:07 صبح

Way cool! Some extremely valid points! I appreciate you
penning this write-up plus the rest of the website is also very
good.

جواب دیں
glebe markets address مارچ 24, 2021 - 11:58 شام

fabuloso este conteúdo. Gostei bastante. Aproveitem e vejam este conteúdo. informações, novidades e muito mais. Não deixem de acessar para se informar mais. Obrigado a todos e até a próxima. 🙂

جواب دیں
0mniartist اپریل 10, 2021 - 1:28 صبح

Why visitors still use to read news papers when in this technological globe
everything is existing on net? asmr 0mniartist

جواب دیں
gamefly or اپریل 28, 2021 - 4:37 صبح

Hey there! I just wanted to ask if you ever have any issues with hackers?
My last blog (wordpress) was hacked and I ended up losing many months of hard work due to
no back up. Do you have any solutions to protect against hackers?

جواب دیں
gamefly was اپریل 28, 2021 - 7:32 صبح

This post is priceless. Where can I find out more?

جواب دیں
or asmr اپریل 29, 2021 - 3:37 صبح

Hi there! This is my first visit to your blog! We are a collection of volunteers and starting a new initiative in a community in the same niche.
Your blog provided us useful information to work on.
You have done a outstanding job!

جواب دیں
our asmr اپریل 29, 2021 - 4:24 صبح

hello!,I really like your writing so so much! percentage we keep in touch extra about your article
on AOL? I need an expert on this house to solve my problem.
May be that is you! Taking a look ahead to peer you.

جواب دیں
my asmr اپریل 29, 2021 - 8:34 صبح

Aw, this was an extremely nice post. Spending some time and actual effort to create a superb article… but what can I say… I hesitate a whole lot and never
manage to get anything done.

جواب دیں
and asmr اپریل 29, 2021 - 2:01 شام

Nice post. I learn something totally new
and challenging on blogs I stumbleupon every day.
It will always be exciting to read content
from other authors and practice a little something from their websites.

جواب دیں
this asmr اپریل 29, 2021 - 6:32 شام

Hi there! I realize this is kind of off-topic
but I had to ask. Does running a well-established blog like
yours require a lot of work? I’m completely new to operating a
blog however I do write in my journal daily. I’d like to start a blog so I will be able to share my own experience and views online.

Please let me know if you have any suggestions or tips for
new aspiring bloggers. Appreciate it!

جواب دیں
in asmr اپریل 29, 2021 - 10:21 شام

Thanks to my father who stated to me regarding this weblog, this website is really remarkable.

جواب دیں
on gamefly مئی 4, 2021 - 1:54 صبح

It’s going to be finish of mine day, but before finish I am reading this
enormous article to improve my experience.

جواب دیں
gamefly their مئی 4, 2021 - 8:37 صبح

Thanks in favor of sharing such a good thought, piece of
writing is fastidious, thats why i have read it entirely

جواب دیں
with asmr مئی 4, 2021 - 11:01 صبح

Way cool! Some extremely valid points! I appreciate you penning this article and the rest of the website is
also very good.

جواب دیں
asmr off مئی 4, 2021 - 3:39 شام

Hi, i think that i saw you visited my website thus i came to “return the favor”.I am trying to find things to
improve my web site!I suppose its ok to use a few of your ideas!!

جواب دیں
tinyurl.com مئی 7, 2021 - 1:27 شام

It’s awesome to visit this web page and reading the
views of all mates on the topic of this piece of writing, while I am also keen of getting knowledge.

جواب دیں
http://bitly.com/ مئی 7, 2021 - 1:50 شام

I’m not sure why but this weblog is loading extremely slow for me.
Is anyone else having this issue or is it a issue on my end?
I’ll check back later and see if the problem still exists.

جواب دیں
asmr with مئی 8, 2021 - 5:16 صبح

I do accept as true with all of the ideas you’ve introduced in your post.
They’re really convincing and will definitely work.
Still, the posts are very short for starters.
May just you please lengthen them a bit from subsequent time?
Thanks for the post.

جواب دیں
but asmr مئی 9, 2021 - 10:33 صبح

It’s a pity you don’t have a donate button! I’d definitely donate
to this superb blog! I suppose for now i’ll settle for book-marking and adding your RSS feed to my Google account.

I look forward to brand new updates and will talk about this website with
my Facebook group. Talk soon!

جواب دیں
asmr for مئی 9, 2021 - 12:24 شام

Wow! Finally I got a blog from where I be capable of
genuinely take valuable information regarding my study
and knowledge.

جواب دیں
tinyurl.com مئی 15, 2021 - 3:44 شام

scoliosis
I get pleasure from, lead to I discovered just what I used to be having a look for.
You have ended my 4 day long hunt! God Bless you man.
Have a nice day. Bye scoliosis

جواب دیں
http://bit.ly/2RdYNKi مئی 15, 2021 - 4:09 شام

scoliosis
Hey there! This is my first visit to your blog! We are a collection of volunteers and starting a
new initiative in a community in the same niche. Your blog
provided us valuable information to work on. You have done a extraordinary job!
scoliosis

جواب دیں
stornobrzinol مئی 16, 2021 - 10:13 شام

Hi there! This is kind of off topic but I need some advice from an established blog. Is it very difficult to set up your own blog? I’m not very techincal but I can figure things out pretty fast. I’m thinking about making my own but I’m not sure where to start. Do you have any points or suggestions? With thanks

جواب دیں
j.mp مئی 17, 2021 - 1:03 صبح

scoliosis
Appreciation to my father who shared with me on the topic of this webpage, this blog is truly awesome.
scoliosis

جواب دیں
euryka.rdi.uoc.edu مئی 17, 2021 - 5:59 صبح

scoliosis
Hiya! I know this is kinda off topic nevertheless I’d figured I’d ask.

Would you be interested in exchanging links or maybe guest authoring a blog post or vice-versa?

My blog addresses a lot of the same topics as yours and I believe we could greatly benefit from each other.
If you are interested feel free to shoot me an email.

I look forward to hearing from you! Fantastic blog by
the way! scoliosis

جواب دیں
bit.ly مئی 19, 2021 - 2:31 شام

scoliosis
Thank you a lot for sharing this with all folks you
actually know what you are talking about! Bookmarked.
Kindly also talk over with my site =). We may have a hyperlink trade contract between us scoliosis

جواب دیں
tinyurl.com مئی 19, 2021 - 3:38 شام

scoliosis
It’s an amazing post for all the internet users;
they will take advantage from it I am sure.

scoliosis

جواب دیں
this asmr مئی 21, 2021 - 5:08 شام

Pretty portion of content. I simply stumbled upon your site and in accession capital to
claim that I acquire actually loved account your blog posts.

Any way I will be subscribing for your augment and even I fulfillment you get
right of entry to consistently fast.

جواب دیں
their dating sites مئی 26, 2021 - 1:34 شام

Hello it’s me, I am also visiting this web site daily, this site is actually fastidious and
the visitors are really sharing nice thoughts.

جواب دیں
but dating sites مئی 26, 2021 - 10:21 شام

I am not sure where you’re getting your information, but good topic.
I needs to spend some time learning much more or understanding
more. Thanks for magnificent info I was looking for this information for my mission.

جواب دیں
dating sites for مئی 26, 2021 - 10:52 شام

If you wish for to increase your knowledge just keep visiting this website and be
updated with the most recent news posted here.

جواب دیں
free dating sites that مئی 26, 2021 - 10:58 شام

If some one needs expert view about running a blog afterward i recommend him/her to visit this web site, Keep
up the nice work.

جواب دیں
free dating sites a مئی 29, 2021 - 2:20 شام

Its like you read my mind! You seem to know so much about this, like you wrote
the book in it or something. I think that you can do with a few
pics to drive the message home a little bit, but instead of that, this is great blog.
A fantastic read. I will certainly be back.

جواب دیں
on scoliosis مئی 30, 2021 - 2:45 شام

Thanks very nice blog!

جواب دیں
scoliosis surgery that مئی 30, 2021 - 8:29 شام

Can you tell us more about this? I’d love to find out some additional information.

جواب دیں
with scoliosis مئی 31, 2021 - 1:30 صبح

I quite like reading through an article that can make people think.
Also, thank you for permitting me to comment!

جواب دیں
scoliosis surgery or مئی 31, 2021 - 3:52 صبح

Can I simply say what a comfort to find somebody that truly understands what they are discussing
online. You certainly realize how to bring an issue to light and make it important.
More and more people must look at this and understand this side
of the story. I was surprised you’re not more popular because you most certainly possess the gift.

جواب دیں
free dating sites for مئی 31, 2021 - 2:36 شام

I am sure this post has touched all the internet people, its really really pleasant post
on building up new website.

جواب دیں
their free dating sites مئی 31, 2021 - 5:03 شام

What a stuff of un-ambiguity and preserveness of valuable experience
on the topic of unexpected feelings.

جواب دیں
and dating sites جون 1, 2021 - 11:19 صبح

Hi this is kind of of off topic but I was wondering if blogs use WYSIWYG
editors or if you have to manually code with HTML.
I’m starting a blog soon but have no coding skills so I wanted to
get advice from someone with experience. Any help would be greatly appreciated!

جواب دیں
tinyurl.com جون 1, 2021 - 1:42 شام

naturally like your website however you need
to check the spelling on several of your posts.
Many of them are rife with spelling problems and
I find it very troublesome to tell the reality however I will
certainly come back again.

جواب دیں
http://tinyurl.com/y6plqmuq جون 1, 2021 - 2:42 شام

Appreciate this post. Let me try it out.

جواب دیں
tinyurl.com جون 2, 2021 - 2:04 صبح

WOW just what I was looking for. Came here by searching for http://tinyurl.com/y55gj6jm

جواب دیں
http://tinyurl.com/y4d6ux52 جون 2, 2021 - 7:13 صبح

Thank you for sharing your thoughts. I really appreciate your efforts
and I am waiting for your further write ups thanks once again.

جواب دیں
moooi meshmatics chandelier 3d جون 11, 2021 - 7:16 صبح

Excellent post. I was checking continuously this blog and I’m impressed!
Very useful information specifically the last part 🙂 I care
for such information much. I was looking for this particular information for a very long time.

Thank you and best of luck.

جواب دیں
panama city beach attractions جون 14, 2021 - 3:20 صبح

Heya i am for the first time here. I found this board and I find It truly useful & it helped me out much. I hope to give something back and aid others like you aided me.

جواب دیں

کمینٹ کریں