ہم شکلوں کی بستی از سعید محمد - نو رنگ
مرکزی صفحہ اردو نثر ہم شکلوں کی بستی از سعید محمد

ہم شکلوں کی بستی از سعید محمد

by admin
22 کمنٹس 0 ویوز

ایک زمانہ یہاں مکمل رات میں گزرا جبکہ دوسرا رات اور  دن کی ملی جلی کیفیت سے دوچار رہا۔ دو زمانوں کے بیچ پہلی بار رات ختم ہونے کو آئی۔ اس ختم ہوتی رات کے نا مانوس پہلو سے ایک دن نے جنم لیا۔ اندھیروں کی دنیا میں یہ اپنی طرز کا واحد واقع تھا جو لوگوں کی خواب آرائی پر اثر انداز ہوا۔
یہاں کے طرزِ معمول میں نسلوں تک رتی بھر بدلاؤ نہ آتا۔ ایک مخصوص پیرایہ میں ڈھلی ہوئی اس بستی میں ہر رات کے بعد ایک نئی رات طلوع ہوتی۔ اس سلسلہ ہائے حیات میں ایک رات سے دوسری رات تک کا دورانیہ گزشتہ رات میں دیکھے گئے خواب سنانے میں گزارا جاتا۔ ہر رات خوابوں میں فطرتاََ کوئی بصری یا صوتی اختراع در آتی اور یوں ہر روز نئے خوابوں کی پزیرائی اس بستی میں واحد مرغوب فعل بنتا گیا۔
وقت کا تصور ان لوگوں کے ذہنوں میں نمودار نہ ہوا تھا۔ رات کا تسلسل کبھی ٹوٹتا تو وقت کا مسئلہ پیدا ہوتا۔بصری تقاضوں سے کم و بیش عاری یہ لوگ جن شکلوں میں پیدا ہوتے انھیں میں موت سے ہم آغوش ہو جاتے۔ راتیں گزرتیں اور وقت ٹھہرا رہتا۔ وقت کے اس ٹھہراؤ نے آہستہ آہستہ خوابوں میں یکسانیت بھرنا شروع کر دی اور لوگ ہر روز ایک جیسے خواب سننے سے بیزار ہونے لگے۔ نئے خواب دیکھنے کے لیے کئی ایک حربے ایجاد ہونے لگے۔ مثال کے طور پر آدھی بستی سو جاتی تو دوسری آدھی جاگتی رہتی۔ جاگنے والے سونے والوں کے مخصوص دماغی خلیوں سے لڑنے میں مصروف رہتے۔ کچی نیند میں ان خلیوں کو متاثر کر دینے سے گزشتہ خوابوں کے نقوش مٹ جاتے اور یوں تمام کہنہ خواب نئے معلوم پڑتے۔

اس دوران میں خوابوں کاروبار چل نکلا اور دن بہ دن بڑھتا گیا۔ جو اپنے خوابوں سے تھک جاتا وہ خواب زاروں کا رخ کرتا۔  چند دام کے عوض نئے خواب خرید لاتا۔ نئے خواب اپنی نیند کے عوض خریدے جاتے۔ خواب بنانے میں نیند صرف ہوتی۔ خواب گر خواب گھڑنے کے لیے تازہ مٹی پہ پانی چھڑکتے جس کی خوشبو سے خریدار  کھچے چلے آتے۔ لچکتے خواب گوندھ کر تصویر کیے جاتے. پہروں سہلائے اور چمکائے جاتے۔ خریدار کی نظر جب خواب دانوں پر پڑتی تو نیند آنکھوں سے ٹپکنے لگتی۔ وہ کسی بھی قیمت پر خواب خرید کر لے جاتے۔
اس فن میں پختگی آئی تو خوابوں کے مصور بہت کم نیند صرف کر کے زیادہ نیند کمانے لگے۔ لوگ پہروں جاگتے اور نیند جمع کرتے۔ پھر اس کے عوض چند خواب خرید کر لاتے۔ اس عدم مساوات سے چڑچڑاہٹ پھیلنے لگی۔ خواب گر لوگوں کی نیندوں سے کھیلتے اور خوب سوتے۔ جب یہ خسارہ حد سے بڑھا اور خریداروں کی نیندیں گھٹنے لگیں تو بالآخر اس بستی میں نیند کا قحط آ پڑا۔
نیند کے قحط نے دن ایجاد کِیا۔ یہ خال و خد میں سرے سے مختلف تھا۔ جہاں نکلا رنگوں میں تفریق کرنے لگا۔ وقت کے نقوش ظاہر ہونے لگے۔ گہری اور اونچی سطحیں واضح ہونے لگیں۔ دھرتی کی سیاہی ہجرت کرنے لگی۔ نور کے وفور سے دھرتی پر آنکھیں اُگیں اور پہلی بار آسمانی رنگ سے ٹکرائیں۔ دھرتی کے لچکیلے بدن کی برف پگھلی تو سنہرے نقوش میں قوتِ ثقل بیدار ہوئی۔ اور اس کی کھینچ اپنے اوپر چلتے قدموں کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس کا رازوں سے بھرا سینہ ابھرنے لگا اور نغموں کی لہریں ایک انتہا سے چِھڑتیں تو گہرائیوں تک پھیل جاتیں۔ ان آنکھوں نے ہنسنا اور رونا سیکھا تو ندیاں, دریا اور سمندر بنے۔
وقت کی یکسانیت ٹوٹنے لگی اور خوابوں کی داستانیں معدوم ہوتی گئیں۔ مگر یہ بات کسی کو معلوم نہ ہو سکی کہ خواب مرتے گئے یا خواب دیکھنے والے۔

13
22 کمنٹس

ریلیٹڈ آرٹیکلز

22 کمنٹس

سید وقار افضل ستمبر 5, 2020 - 2:54 شام

لطیف باطنی تجربات کو پہچاننا اور پھر تحریری گرفت میں لانا ایک مشکل تخلیقی عمل ہے ۔ اس راہ میں بعض دفعہ ابلاغ خیال کی دباذت میں دب جاتا ہے ۔ لیکن اس امر سے بھی انکار نہیں کے تخلیقی ابہام سے معنی خیزی کے نئےدر کھلتے ہیں ۔۔۔ ابہام پہیلی بننے سے بچ جائے تو مفاہیم کےکئی بند دروازے کھلنے لگتے ہیں جدید حسیت اسی اظہاریے میں بھلی لگتی ہے ۔۔۔ جدید زندگی کی علامتوں سامنے کی چیزوں سے اگر لطیف کیفیات کو کشید کیا جائے تو کافکا ہاتھ آتا ہے اور اساطیر اور دنیا کے سارے ادب کی حکایات کارنگ اگر ہاتھ آ جائے توبرخیس کا فکشن تخلیق ہوتا ہے ۔۔۔ اسی طرح اگر لفظی اسلوب کا برتاؤ آ جائے تو محمد حسین آزاد سے ملاقات ہوجاتی ہے ۔۔۔ ہمیں خوشی ہے کہ سعید کی نثر میں ایک اسلوب ابھر رہا ہے ۔ جس کو پڑھ کر مذکورہ بڑے نام ذہن میں آ گئے۔۔۔۔ شاباش

جواب دیں
سعید ستمبر 5, 2020 - 4:01 شام

سر وقار بہت شکریہ حوصلہ افزا تبصرے کے لیے

جواب دیں
Maimona ستمبر 5, 2020 - 4:36 شام

Maa shaa Allah sir G bht acha article h
Allah pak ap k ilm o aml me brkt aataa farmaye
Aameen

جواب دیں
khola ستمبر 5, 2020 - 4:48 شام

Maa shaa Allah bht khob
Allah pak zor e bayan me mzeed izafa farmaye
Aameen

جواب دیں
سارہ تعبیر ستمبر 5, 2020 - 10:07 شام

دماغ میں۔۔ کہیں اندر میں چلتی کیفیات تجربات بیان کیے۔۔ اور کیا ہی بہترین تحریر ہے۔۔

جواب دیں
سعید ستمبر 5, 2020 - 10:23 شام

نوازش

جواب دیں
Urwa farwa ستمبر 6, 2020 - 1:07 صبح

بہت اعلیٰ….. نئے لکھنے والوں میں بہ طرزِ آزاد انداز واسلوب اختیار کرنا بہت ہی قابل ستائش ہے کہ کسی بھی اسلوب کا آگے بڑھنا، مقبول ہونا یا رواج پانا اسلوب اور صاحب اسلوب دونوں کو جاودانی بخشتا ہے …… کسی نامور صاحبِ اسلوب کے انداز واسلوب کو اختیار کرنا اور پھر اسے نبھانے کی کوشش کرنا بہرحال ایک مشکل مرحلہ ہے ….جسے نثر نویس نے عمدہ طریقے سے نبھایا ہے..

جواب دیں
admin ستمبر 6, 2020 - 3:01 شام

شکریہ

جواب دیں
سعید ستمبر 7, 2020 - 11:59 صبح

شکریہ

جواب دیں
Samra ستمبر 11, 2020 - 10:24 صبح

Great sir g

جواب دیں
DvnjFlave دسمبر 31, 2020 - 7:59 شام

what\’s viagra viagra online sweden cost of viagra at walgreens

جواب دیں
FgvdFlave جنوری 9, 2021 - 3:21 شام

professional pharmacy rx pharmacy online pharmacy prices

جواب دیں
FwsxGuill جنوری 11, 2021 - 3:21 شام

best ed pills drugs from canada best drugstore eyeliner

جواب دیں
JlloChose جنوری 12, 2021 - 3:40 شام

rx pharmacy online pharmacy online drugstore nearest drugstore

جواب دیں
JtmfGuill جنوری 12, 2021 - 6:57 شام

online pharmacy without scripts the peoples pharmacy global pharmacy canada

جواب دیں
LokuGuill جنوری 13, 2021 - 12:17 صبح

people’s pharmacy discount pharmacy medicine for erectile

جواب دیں
NllpFlave جنوری 13, 2021 - 4:08 صبح

peoples pharmacy drug store near me canadian online pharmacies

جواب دیں
Khthvoic جنوری 13, 2021 - 10:58 صبح

pharmacies corner drug store 24 hr pharmacy

جواب دیں
zortilonrel مارچ 18, 2021 - 4:50 شام

excellent points altogether, you just gained a brand new reader. What might you recommend about your put up that you made some days ago? Any sure?

جواب دیں
exante مارچ 25, 2021 - 12:14 صبح

Este site é realmente demais. Sempre que acesso eu encontro coisas boas Você também vai querer acessar o nosso site e descobrir detalhes! Conteúdo exclusivo. Venha descobrir mais agora! 🙂

جواب دیں
elementor website tutorial اپریل 7, 2021 - 11:59 شام

I like this post, enjoyed this one thanks for posting.

جواب دیں
stornobrzinol مئی 15, 2021 - 1:22 شام

Hello, you used to write excellent, but the last several posts have been kinda boring?K I miss your tremendous writings. Past few posts are just a little out of track! come on!

جواب دیں

کمینٹ کریں