خواب زاروں کا مصور اور داستان گو از مشرف عالم ذوقی - نو رنگ
مرکزی صفحہ شخصی خاکے خواب زاروں کا مصور اور داستان گو از مشرف عالم ذوقی

خواب زاروں کا مصور اور داستان گو از مشرف عالم ذوقی

by admin
56 کمنٹس 0 ویوز

کسی زمانے میں خراسان ادب و تصوف کا مرکز تھا .  شیخ فرید الدین عطار کا تعلق عظیم خراسان کے  نیشا بور سے تھا. شیخ فرید الدین جو پیشے سے عطار بھی تھے ، ایک دن  اپنا مطب بند کر دیا اور دور دراز کے مقامات  بغداد، بصرہ، کوفہ، مکہ، مدینہ، دمشق، خوارزم، ترکستان اور ہندوستان کی سیر کو نکل گئے . اب وہ نظریاتی طور پر   صوفیائے کرام کے انداز میں ڈھل چکے تھے. وجد کی کیفیت تھی . نور کا گہوارہ تھا .ایک روایت مشہور ہے ، حضرت خواجہ شیخ فرید الدین عطار  کسی  کام میں  مصروف تھے-ایک درویش آیا . حضرت مصروف رہے  . درویش کی طرف توجہ نہ دی-درویش نے سوال کیا ..اے شیخ تم مرو گے کیسے ؟جواب ملا .. جس انداز میں تم مرو  گے . درویش مسکرایا . زور سے الله کہا . حضرت نے دیکھا ، درویش اپنی جان الله  کے سپرد کر چکا تھا .اس واقعہ کا اثر ہوا .  اور یاد الله میں سفر کو نکل گئے ..ہائے ، کیا لوگ تھے کیسے کیسے کرشمے اور معجزے ہوا کرتے تھے .تاریخ میں کچھ بادشاہوں کے نام  ہفت اقلیم کی دولت رہی . تارڑ کو .شیخ فرید الدین کے فیض کی دولت نصیب ہوئی …تارڑ اپنے مرشد کی بات پر عمل کیسے نہیں کرتے .  سفر کو نکلے . ساری دنیا کی سیر کی . اردو زبان کو سفر ناموں کا بیش قیمت تحفہ دیا . ان کے ناول کشف سے نکلے ، افق تک پھیل گئے . وہ لکھتے گئے ، لکھتے گئے ، لیکن وہ مقام باقی تھا ، جہاں سے مرشد کی یادوں نے فیض کا چشمہ جاری کیا تھا . منطق الطیر جدید اسی چشمہ کا نام تھا جس کے بارے میں تارڑ نے لکھا ،،،   پرندوں کی بولیاں میرے کانوں میں پھونکنے والے مرشد عطار کے نام”-
… کہ جسم و جاں میں ابال آئے نہ خواب زاروں میں روشنی تھی..
مجھے کس کی تلاش ہے ،  نہیں معلوم . مگر یہ ایک خوف زدہ کرنے والا خواب تھا . پانچویں  جنگ عظیم اور دنیا ختم .  زمین کے اندر پگھلی چٹانوں کا سیال اور سطح زمین پر ابلتا لاوا سرد ہو کر ٹھوس شکل اختیار کرچکا تھا .. آتشی چٹانیں زمین کے اندرونی حصے میں پائے جانے والے مادوں سے تیار ہورہی تھیں . نہ درخت ، نہ چرند پرند  ، نہ ندیاں ، نہ انسان . ایک دھماکہ اور سب کچھ ختم ..میری  بے چین روح کچھ تلاش کر رہی ہے .. کہیں کچھ نہیں ..مگر دور ایک ہیولا .. روح رقص کرتی ہوئی قریب آتی ہے . پشت سے صاف ہے کہ کوئی انسانی سایۂ ہے . سر پرہیٹ … دنیا ختم ہو گیی مگر یہ کون ہے …؟ کون ہے ؟
میں …
آہ ،، وہ ایک آتشی پتھر پر اسٹائل سے بیٹھا تھا . غول بیابانی … ایک دھیمی آواز ابھری ..  روح  الجھ گیی ..خضر سمجھے ہو جسے غول بیابانی ہے..غلط امید کے جنگل میں تھکا مارے گا.. روح نے پھر تعاقب کیا .. اب کچھ آوازیں صاف تھیں ..اندلس ، خانہ بدوش، نانگا پربت، نیپال نگری، سنولیک، کالاش، سنہری اُلو کا شہر، ماسکو، نیو یارک،  ہالینڈ،الاسکا ہائی وے، لاہور، یارقند،  سندھ، آسٹریلیا … استنبول .. وہ بولتا جا رہا تھا ..
اس نے ہاف  پینٹ سے پاؤں باہر نکالے . پہلی بار محسوس ہوا ، کوئی بدنصیب ہے جو دنیا کے تباہ ہونے پر حیران ہے . روح اب سامنے تھی اور حیرت زدہ .. اوہ …یہاں بھی ..؟  اس ویرانے کو بھی نہیں بھولا . یہاں بھی سفر نامہ لکھنے آ گیا . پچاس سے زاید سفر نامہ لکھنے کے بعد بھی اس کی تلاش ختم نہیں ہوئی … مستنصر حسین تارڑ .. وہ چٹانوں کے گرم  سیال سے دنیا کی تباہی کا سفر نامہ لکھنے آیا تھا .
کچھ برس گزر گئے . رات آٹھ بجے فون کی گھنٹی بجی ،، ایک کھنکھناتی  ہوئی آواز  طلسم کدے سے نکلی ..میرے حواس پر چھا گئی ،…میں کچھ بولنے کی کوشش کر رہا تھا . مگر میری آواز الجھ گیی تھی ..
تبسم نے پوچھا …کون  تھے ؟ اور تم کن لفظوں میں بات کر رہے تھے ..
اہ ..مجھے یاد ہے ..ٹھہرو ..مجھے سوچنے دو ..ہاں ..میں کچھ کہہ رہا تھا .. اونچے اونچے درخت..جزیرہ کا  دودھیا رنگ..مو رتیاں.. وادی سندھ ..روح کے بھید..غزال شب ..ڈاکیہ .. شاید جلاہا بھی ..سفید رنگ کے پکھیرو..مامن ماسا، سرسوتی، گھاگرا، پکلی، سمرو.. چولستان کا دریا ، سرسوتی ، آریاء، دراوڑین،  پڑپہ کی تہذیب، مہر گڑھ اور موین جوڈرو…
کیا بک رہے ہو ..؟
ہاں اور ..منطق الطیر جدید .. ان کی آواز صاف تھی .. اور میں سب کچھ سن رہا تھا .. نیشاپور کا فریدالدین.. سیمرغ کی تلاش..وادیء تلاش، وادیء الفت،ہدہد ، اور ..چار چیزیں تھیں جو ہر دسمبر میں بلاتی تھیں..
کس کو ..؟
میں خواب سے نکلا ..تارڑصاحب  کو .اور کس کو . .. دو تین بار ان سے گفتگو ہوئی .مگر .. وجدان کی تلاش میں ، میں  ٹلہ جوگیاں کی طرف نکل جاتا . جہاں دنیا کی مختلف مختلف سمتوں سے سات پرندے آ چکے تھے .آٹھواں پرندہ میں تھا . کیا بولتا .. کیسے بولتا …پاکستانی ادیب اور میرے دوست یونس خان نے شکایت کی ، تارڑ صاحب سے آپ بات کیوں نہیں کرتے .ان سے کیا کہتا کہ جب وہ بولتے ہیں ، میں نیشا پور ، سات پرندوں کی تلاش میں نکل جاتا ہوں اور ان کی آواز مجھے سنایی نہیں دیتی .
احمد شاہ ابدالی فارسی میں کئی نظموں کے مصنف بھی تھے۔ ان کی ایک نظم ہے  ، قوم ک محبت جس میں انہوں نے لکھا: خون کے ذریعہ ، ہم آپ کی محبت میں غرق ہیں۔ نوجوان آپ کی خاطر اپنے سر کھو دیتے ہیں۔ میں آپ کے پاس آیا ہوں اور میرے دل کو سکون ملا ہے۔ تجھ سے دور ، غم میرے دل سے سانپ کی طرح لپٹ گیا۔ میں دہلی کا تخت بھول جاتا ہوں جب مجھے اپنی خوبصورت پختون خوا کی پہاڑی چوٹی یاد آتی ہے۔ اگر مجھے دنیا اور آپ کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا ، میں تمہارے بنجر صحراؤں کو اپنا دعوی کرنے میں دریغ نہیں کروں گا۔ میں خوبصورت پختون خوا کی پہاڑی چوٹی کی جگہ اس مقام کو دیکھتا ہوں جہاں تارڑ رہتے ہیں . جہاں آٹھواں پرندہ  عشق کی خاک سے پیدا ہو  کر محوِ پرواز ہے۔ .. مشہور فکشن نگار اقبال خورشید سے باتیں کرتے ہوئے تارڑ صاحب نے بتایا ،  عطار میرے مرشد ہیں، میں پچاس سال سے اُن کے پرندوں کے عشق میں مبتلا ہوں، تو ان کا ایک تازہ ترجمہ انگریزی میں ہوا، اور انگریزی میں ترجمے ہوتے رہے ہیں۔ جیسے رومی کا پہلے بھی ترجمہ ہوا تھا، مگر بعد میں جو ترجمہ ہوا، اس کی وجہ سے اُنھیں دنیا کا سب سے بڑا صوفی قرار دیا گیا۔ تو ’منطق الطیر‘ کے پہلے بھی تراجم ہوئے، مگر جو تازہ ہوا، وہ میں نے پڑھا، تو میرے ذہن میں آیا کہ جیسے پرانی داستانوں کو بار بار لکھا جاتا ہے، ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں کو بار بار لکھا گیا، تو یہ بھی ایک کلاسیک ہے، اس کی بھی پیروی کرنی چاہیے۔ گو فریدالدین عطار کے نقش قدم پر چلنا، اپنے پیروں کو جلانے کے مترادف ہے..
مستنصر حسین تارڑ ماضی ، حال ، مستقبل کا مصور  ۔ ہمارا ماضی کیا تھا؟کیا ہے؟ کیا ہمارا مستقبل تابناک  نہیں ہے؟ تاریکی کی حیرانیاں اور غول بیابانی .. ٹلہ جوگیاں سے نکلا ایک قافلہ اور مشہور فلسفی  بھرتری ہری کے عشق میں سما گیا . گرو نانک کے نغمے سنے . بدھ کی حیرانیوں کو چکھا . رانجھے کے چھدے ہوئے کان دیکھیے . ہیر کی آنکھوں کے موتی چنے . ایک پرندہ کوہ طُور سے برآمد ہوا . ایک غار حرا کی روشنی سے نکلا ، ایک مسیح  کی صلیب سے  پیدا ہوا .،  زرتشت کے آتش کدے کی آگ ٹھنڈی ہو کر بجھ گیی تو ایک پرندہ اس راکھ سے نکلا .   فرات کے پانی اور  قراہ العین طاہرہ کے بدن سے سرخ آگ نکلی اور ایک پرندہ یہاں بھی جنما . اس نے کرشن کی موسیقی کو گلے لگایا ، رومی ، حافظ ، رسول حمزہ ٹوف ، خلیل جبران ، شمس تبریز سے عشق کیا اور اس کا ہر ناول تلہ جوگیاں کے کھل جا سم سم سے عشق کے مکالمے کے ساتھ وجود میں آیا . ساری مستی شراب کی سی ہے ..  ۔’خس وخاشاک زمانے‘  کو ہی لیجئے ، تارڑ کا ایک ایسا شاہکار  جس کے بغیر اردو ناولوں پر گفتگو ممکن ہی نہیں ہے۔
مستنصر حسین تارڑ کو پڑھتے ہوئے ایک وسیع دنیا آباد ہے…. کیا ایسی کردار نگاری وہ لوگ کرسکتے ہیں جو صرف تجربے کا دم بھرتے ہیں؟ میرا جواب ہے نہیں…. کیونکہ یہاں ہوایا خلا میں معلق تحریر نہیں ہے۔ یہاں زندگی کو پیش کرنے کی جرا ت کی گئی ہے۔ جو زیادہ مشکل کام ہے اور جنہیں یہ ہنر نہیں آتا وہ تجربے سے کام چلاتے ہیں۔  چونکا دینے والی کہانیاں اب ماضی کا افسانہ بن چکی ہیں۔ ادب محض لفظوں کی بھول بھلیاں کانام نہیں…. یہاں منہ میں چھالے اگانے ہوتے ہیں۔ لہو تھوکنا پڑتا ہے…. زندگی قربان کرنی ہوتی ہے…. اور مستنصر حسین کی طرح زندہ کرداروں سے نئے فلسفوں کی دھوپ چرانی ہوتی ہے۔ وہ داستانوں کا تعاقب کرتا ہے . اسکی انگلیاں حسین ، نا آفریدہ مکالموں سے کھیلتی ہیں . جب وہ بہا و لکھتا ہے ، تو تخیل اور مرشد کا سایۂ اسے سندھ کی تھذیب میں لے جاتا ہے .. کیا اس زمانے کے مکالموں کو زندگی دینا آسان ہے ؟ کون سا درخت کیسا ہوتا ہے ؟ درختوں کی کھالیں ، شاخیں ، پتے ، وہ جزیات کو اپنے تخیل سے آسان بنا دیتا ہے . وہ اس وقت کے گھروں کے حال لکھتا ہے ، عشق کے فسانے سے گزرتا ہے ، اور وادی سندھ کا ہر زرہ روشن ہو جاتا ہے .ناول نہیں معجزہ کہئے . وہ لکھتا نہیں ، معجزہ کرتا ہے .
وہ جو میز کے پیچھے بیٹھے تھے ، حیرت ہے کہ انہوں نے سامنے کچھ دھیان نہ کیا ، اپنے سامنے کھڑے گھڑ سوار کی جانب کچھ دھیان نہ کیا کہ یہ وہ لمحہ تھا جب اُس اروڑے نے ایک دستاویز پر دستخط کرکے اُسے سرکا کر اپنے برابر بیٹھے بونے کے آگے کیا اور قلم اُس جانب بڑھا دیا اور اُس قلم کو تھامتے نہ تو اُس بونے کی انگلیاں لرزیں ، نہ ہی ان انگلیوں کی پوروں میں سے غیرت اور حیا کی کوئی سرخی پھوٹی ، اگر کوئی دیکھ سکتا تو اس قلم کے اندر جو سیاہی تھی اُس کا کلیجہ بھی کٹ گیا اور وہ خون میں بدل گئی ۔( خس و خاشاک زمانے )
کیا ہم ان اندھی بستیوں میں رہتے ہیں ، جہاں چھوٹے چھوٹے نہ دکھایی دینے والے بونوں کی حکومت ہے ، جو خس و خاشاک زمانے میں برق رفتاری سے کود پھاند کرتے ہوئے ہماری  تھذیب کا نقش بن جاتے ہیں . تھذیبی تصادم کا صدیوں پرانا کھیل اس ناول میں نئے زاویہ سے آیا ہے . پہلے ہندوستان تقسیم ہوا . پھر پاکستان کے دو حصّے ہوئے . نفرت کی داستانوں نے خس و خاشاک کے ڈھیر پر کھرے ملکوں کی تقدیر لکھی .. اور اس سے پہلے تارڑ نے وادی سندھ کے بہاؤ کو دیکھا . بجھی ہوئی راکھ کو دیکھا . پیار کے پہلے شہر کو آواز دی . محبتوں کے سفیر نے سفر ناموں کے بھی ڈھیر لگا دیے . اردو تو کجا دوسری زبانوں میں بھی شاید اتنے عمدہ سفر نامے مشکل سے ملیں . اردو میں ، سفر ناموں کی تاریخ میں تارڑ کے بعد مجھے صرف لالی چودھری کا نام نظر آتا ہے لیکن لالی کے پاس کچھ مضامین اور ایک کتاب سے زیادہ سرمایہ نہیں .
خلیل جبران کی ایک مشہور کہانی ہے ، جنگ اور امن . تین کتے دھوپ میں ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔  پہلے کتے نے آنکھیں بند کیں ، وہ خواب میں بولنے لگا ، "یہ واقعتا خوشی کی بات ہے کہ کتاراج  میں رہنا ہے۔ سوچو کہ ہم کتنی آسانی سے سمندر کے نیچے ، زمین اور آسمان کے اوپر گھومتے ہیں۔ کتوں کی سہولت کے لئے ہم ایجاد کرتے ہیں۔ ہم  صرف اپنی آنکھوں پر ہی نہیں ، اپنی آنکھوں ، کانوں اور ناک پر بھی فوکس کرتے ہیں۔
دوسرے کتے نے کہا ، "ہم فنون لطیفہ کے بارے میں زیادہ حساس ہوچکے ہیں۔ ہم اپنے باپ دادا سے زیادہ  سر اور تال سے چاند کی طرف  دیکھ کر بھونکنا چاہتے ہیں۔ پانی میں ہمارا سایہ ہمیں پہلے کی نسبت زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے۔
تیسرے کتے نے کہا ، "مجھےجو چیز زیادہ پسند ہے وہ یہ ہے کہ لڑے بغیر ہم  خاموشی سے بات کرتے ہیں .  اسی دوران ، کتوں نے  دیکھا کہ کتا پکڑنے والا ان  کی طرف آ  رہا ہے.۔
تینوں کتے اچھل کر گلی میں آگئے۔ بھاگتے ہوئے ، تیسرے کتے نے کہا ، "خدا کا نام  لو اور کسی طرح اپنی جان بچاؤ۔ تہذیب ہمارے پیچھے ہے۔
وہ تہذیبوں کا محافظ ہے . تصادم سے نہیں گھبراتا . اس نے صدیوں کی آگ ، دھوپ ، اور تمازت کو شدت سے محسوس کیا ہے . وہ تاریخ ، ماضی ، سسٹم سے بھی دو دو ہاتھ کرتا ہے . اس کے ایک ہاتھ میں ناول کی کائنات اور دوسرے میں سفر کا خزانہ ہے .
"”صدیوں پر محیط ناول خس وخاشاک زمانے میں تارڑ آزادی اور غلام فضا دونوں ایام میں اسی روشنی کو تلاش کرتے رہے۔ وہ بونے تو نظر آئے۔ جو کنواں کی گہرائیوں سے نکل کر بختے کو تقسیم کا خوف دکھا رہے تھے۔ لیکن ایک تقسیم کے بعد بھی تقسیم کا سلسلہ بند کہاں ہوا— ہندو پاک کے ڈراﺅنے خواب سے نکل کر یہ داستان سقوط بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، عراق کے پس منظر میں جب اپنے ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں دکھاتی ہے، تو ارتقا، سائنس اور تیزی سے بھاگتی نئی دنیا کا خوف ذہن ودل پر طاری ہوتا ہے— تارر کے پاس لفظیات کا خزانہ ہے ۔ ہزاروں مثالیں، تشبیہیں ایسی ہیں جو اس سے پہلے مغرب کے کسی ناول کا حصہ بھی نہیں بنیں۔ یہاں کچھ بھی مغرب سے مستعار نہیں، یہاں داستانی رنگ ہے۔ اور ذلیل ہونے کے لیے ہماری، آپ کی خوفناک دنیا منتظر…. اس میں صدیاں قید ہیں۔ اور صدیوں کو قلمبند کرنے کے لیے، جس غیر معمولی زبان، اسلوب اور لہجے کی ضرورت تھی، تارڑ کے پاس یہ خزانہ موجود تھا۔ وہ  آتش پرستی سے حجاب پیدا کرتا ہے .-اسے  بلخ کے کھنڈروں سے گونجتی آوازیں سنایی دیتی ہیں .وہ ان آوازوں کا تعاقب کرتا ہے . وہ  کوہ طور کی تلاش میں نکلتا ہے ، افسانوں کے بھید پاتا ہے . وہ   بدھ کے آٹھویں نروان سے موکش چراتا ہے .، عیسی کی صلیب میں صدیوں پہلے کی چیخوں کو یکجا کرتا ہے . غار حرا کے شگافوں  سے بے چین روح کا سراغ پاتا ہے . وہ سات سمندر ، سات افلاک اور سات پرندوں میں سما جاتا ہے . یہاں عطار  کا چشمہ جاری ہے .وہ  وجدان اور تخلیقی ویژن سے کولاز تیار کرتا ہے .
وہ برسوں سے ، مدتوں سے یہی کر رہا ہے ..
میں خود سے پوچھتا ہوں .. کیا تم اسے جانتے ہو ؟
جواب ملتا ہے .. زندگی کا بھید  . وہ آھستہ آھستہ بھید کی گرہیں کھول رہا ہے .

4
56 کمنٹس

ریلیٹڈ آرٹیکلز

56 کمنٹس

Rafia اگست 26, 2020 - 7:53 صبح

بہت عمدہ تحریر

جواب دیں
cheap flights فروری 1, 2021 - 8:11 صبح

Hey very cool site!! Man .. Excellent .. Superb ..

I will bookmark your site and take the feeds also? I am happy to search out
numerous helpful information right here in the put up, we’d
like work out more techniques on this regard, thanks for sharing.
. . . . .

جواب دیں
cheap flights فروری 1, 2021 - 10:07 شام

Wonderful site you have here but I was wondering if you knew of any discussion boards that cover
the same topics discussed here? I’d really like to be a part
of online community where I can get feed-back from other experienced
individuals that share the same interest. If you have
any suggestions, please let me know. Kudos!

جواب دیں
http://tinyurl.com/y5en3x5z فروری 12, 2021 - 6:10 صبح

Keep this going please, great job!

جواب دیں
web hosting مارچ 10, 2021 - 9:15 صبح

I’m truly enjoying the design and layout of your website.
It’s a very easy on the eyes which makes it much more pleasant for me to come here and
visit more often. Did you hire out a developer to create your theme?

Great work!

جواب دیں
gamefly مارچ 15, 2021 - 5:49 صبح

I am extremely impressed along with your writing
talents and also with the structure on your weblog. Is this a paid topic or
did you customize it yourself? Either way stay up the
excellent high quality writing, it is uncommon to
see a nice blog like this one nowadays.. ps4 games 185413490784 ps4 games

جواب دیں
j.mp مارچ 16, 2021 - 8:43 صبح

Just wish to say your article is as astonishing.

The clearness to your post is simply nice and that i
could assume you’re knowledgeable on this subject. Fine together
with your permission let me to snatch your feed
to stay updated with forthcoming post. Thank you one million and please carry on the enjoyable work.
ps4 games allenferguson ps4 games

جواب دیں
http://j.mp/38RNsFo مارچ 18, 2021 - 4:00 شام

Hey There. I found your blog using msn. This is a very well written article.

I’ll make sure to bookmark it and come back to read more of your
useful information. Thanks for the post. I’ll definitely comeback.

جواب دیں
tinyurl.com مارچ 19, 2021 - 6:10 صبح

This information is invaluable. How can I find out more?

جواب دیں
zortilonrel مارچ 21, 2021 - 3:13 صبح

Magnificent beat ! I wish to apprentice at the same time as you amend your web site, how could i subscribe for a weblog website? The account aided me a applicable deal. I were a little bit familiar of this your broadcast offered vivid transparent idea

جواب دیں
tinyurl.com مارچ 22, 2021 - 2:02 صبح

What’s up, this weekend is good designed for me, for the reason that this moment i am reading
this enormous educational post here at my house.

جواب دیں
web hosting مارچ 22, 2021 - 2:33 شام

My spouse and I stumbled over here from a different
web page and thought I might check things out.
I like what I see so now i am following you. Look
forward to exploring your web page repeatedly.

جواب دیں
tinyurl.com مارچ 23, 2021 - 7:34 صبح

Have you ever thought about creating an e-book or guest authoring on other websites?
I have a blog centered on the same subjects you discuss and would really like to have you share some stories/information. I know
my audience would enjoy your work. If you’re even remotely interested,
feel free to shoot me an e-mail.

جواب دیں
asmr https://0mniartist.tumblr.com اپریل 10, 2021 - 3:26 شام

Hello there, You’ve done an incredible job. I will certainly digg
it and personally recommend to my friends.
I’m confident they’ll be benefited from this site.
asmr 0mniartist

جواب دیں
asmr https://0mniartist.tumblr.com اپریل 11, 2021 - 7:46 صبح

Hello! I could have sworn I’ve been to this site before but
after looking at a few of the posts I realized it’s new to me.
Anyhow, I’m definitely pleased I discovered it and I’ll be book-marking it and checking back
often! asmr 0mniartist

جواب دیں
j.mp اپریل 15, 2021 - 11:43 شام

We absolutely love your blog and find a lot of your post’s to be exactly I’m looking for.
Does one offer guest writers to write content for you?
I wouldn’t mind creating a post or elaborating on some
of the subjects you write related to here. Again, awesome site!
0mniartist asmr

جواب دیں
j.mp اپریل 16, 2021 - 11:47 صبح

Appreciate the recommendation. Let me try it out. asmr 0mniartist

جواب دیں
are gamefly اپریل 28, 2021 - 5:53 صبح

Great post. I was checking constantly this blog and I am impressed!
Extremely helpful info specifically the last part 🙂 I care for such information a lot.
I was seeking this particular info for a very long time.
Thank you and best of luck.

جواب دیں
gamefly our اپریل 28, 2021 - 6:09 صبح

Wow, that’s what I was looking for, what a data!
present here at this web site, thanks admin of this web page.

جواب دیں
was asmr اپریل 29, 2021 - 4:20 صبح

With havin so much content do you ever run into any problems of plagorism
or copyright infringement? My blog has a lot of unique content
I’ve either authored myself or outsourced but it looks like a lot of it is popping it up all over the web without
my authorization. Do you know any ways to help prevent content from being stolen?
I’d genuinely appreciate it.

جواب دیں
asmr or اپریل 29, 2021 - 5:10 صبح

I was able to find good advice from your blog posts.

جواب دیں
asmr with اپریل 29, 2021 - 8:20 صبح

Excellent items from you, man. I’ve bear in mind your stuff previous to and you
are just extremely magnificent. I really like what you’ve obtained
right here, certainly like what you are saying
and the way in which through which you assert it. You make it entertaining and you still care
for to stay it wise. I cant wait to read far
more from you. That is actually a wonderful web site.

جواب دیں
why asmr اپریل 29, 2021 - 1:01 شام

Truly no matter if someone doesn’t understand afterward its
up to other people that they will assist, so here
it happens.

جواب دیں
the asmr اپریل 29, 2021 - 4:14 شام

When I initially commented I clicked the "Notify me when new comments are added” checkbox and now each time a comment is added I get three e-mails with the same comment.
Is there any way you can remove me from that service?
Bless you!

جواب دیں
asmr and اپریل 29, 2021 - 4:26 شام

You are so interesting! I do not believe I have read through a single thing like that before.
So great to find somebody with genuine thoughts on this topic.
Really.. thanks for starting this up. This web site is something that’s needed on the web,
someone with a bit of originality!

جواب دیں
is gamefly مئی 4, 2021 - 2:04 صبح

I love what you guys tend to be up too. This sort of clever work and exposure!
Keep up the very good works guys I’ve included you guys to blogroll.

جواب دیں
in asmr مئی 4, 2021 - 2:42 شام

I always used to study post in news papers but now as I am a user of internet thus from now I am using net for articles or reviews, thanks to web.

جواب دیں
tinyurl.com مئی 7, 2021 - 12:31 شام

Good site you have got here.. It’s difficult to find good quality writing like yours these days.
I honestly appreciate individuals like you! Take care!!

جواب دیں
http://bit.ly مئی 7, 2021 - 6:25 شام

Now I am going to do my breakfast, later
than having my breakfast coming again to read other news.

جواب دیں
that asmr مئی 9, 2021 - 7:47 صبح

naturally like your website however you have to take
a look at the spelling on quite a few of your posts.
Several of them are rife with spelling problems and I to find it
very bothersome to inform the reality then again I’ll certainly come again again.

جواب دیں
of asmr مئی 9, 2021 - 2:12 شام

Someone essentially lend a hand to make seriously articles
I would state. That is the first time I frequented your website page and to this point?
I amazed with the research you made to make this particular submit
incredible. Excellent task!

جواب دیں
https://www.ulule.com/ مئی 15, 2021 - 3:13 شام

scoliosis
Hi there to every , as I am genuinely eager of reading this webpage’s post to be updated daily.
It contains good information. scoliosis

جواب دیں
tinyurl.com مئی 15, 2021 - 3:55 شام

scoliosis
It’s a pity you don’t have a donate button! I’d without a doubt donate
to this outstanding blog! I suppose for now i’ll settle for bookmarking and adding your RSS feed to my Google
account. I look forward to new updates and will share this website with my Facebook group.
Chat soon! scoliosis

جواب دیں
storno brzinol مئی 16, 2021 - 2:14 شام

I got what you mean , regards for putting up.Woh I am thankful to find this website through google.

جواب دیں
http://buddypress.org/members/scoliosis/profile/ مئی 17, 2021 - 3:36 صبح

scoliosis
What’s up to all, how is all, I think every one is getting more from this site, and your
views are nice for new users. scoliosis

جواب دیں
crokes.com مئی 17, 2021 - 7:08 صبح

scoliosis
Thanks for the auspicious writeup. It in truth was once a amusement account it.
Glance advanced to far introduced agreeable
from you! However, how could we be in contact? scoliosis

جواب دیں
bit.ly مئی 19, 2021 - 7:39 شام

scoliosis
This design is steller! You obviously know how to keep a reader
amused. Between your wit and your videos, I was
almost moved to start my own blog (well, almost…HaHa!) Great job.
I really enjoyed what you had to say, and more than that, how you presented it.
Too cool! scoliosis

جواب دیں
that asmr مئی 21, 2021 - 2:14 شام

It’s really a great and helpful piece of information. I am glad that you shared this useful information with
us. Please keep us up to date like this. Thank you for sharing.

جواب دیں
asmr and مئی 21, 2021 - 4:52 شام

I am genuinely delighted to read this weblog posts which consists of lots of helpful information, thanks for providing these information.

جواب دیں
of dating sites مئی 26, 2021 - 7:36 صبح

This piece of writing is really a pleasant one it assists new the web users, who are
wishing in favor of blogging.

جواب دیں
free dating sites was مئی 26, 2021 - 11:53 صبح

Awesome post.

جواب دیں
and dating sites مئی 26, 2021 - 9:30 شام

Greetings from Los angeles! I’m bored at work so I decided to check out your blog on my iphone during
lunch break. I enjoy the info you provide here and can’t
wait to take a look when I get home. I’m shocked at how fast your blog
loaded on my mobile .. I’m not even using WIFI, just 3G ..

Anyways, great blog!

جواب دیں
this free dating sites مئی 26, 2021 - 11:05 شام

Having read this I believed it was very enlightening. I appreciate you taking
the time and effort to put this information together. I once again find myself spending a lot
of time both reading and commenting. But so what, it was still worth it!

جواب دیں
dating sites or مئی 29, 2021 - 1:30 شام

We stumbled over here different web address and thought I may
as well check things out. I like what I see so now i’m
following you. Look forward to looking over your web page repeatedly.

جواب دیں
your dating sites مئی 29, 2021 - 3:16 شام

Pretty nice post. I simply stumbled upon your
weblog and wished to say that I have really enjoyed
browsing your weblog posts. In any case I’ll be subscribing in your rss feed and I am
hoping you write again very soon!

جواب دیں
or scoliosis surgery مئی 30, 2021 - 4:15 شام

If you wish for to obtain a great deal from this piece of writing then you have to apply such strategies to your won web
site.

جواب دیں
it scoliosis surgery مئی 30, 2021 - 8:56 شام

For newest information you have to pay a quick visit internet and on world-wide-web I
found this web site as a best website for hottest updates.

جواب دیں
their scoliosis surgery مئی 31, 2021 - 7:35 صبح

Fastidious answers in return of this matter with solid arguments and describing all concerning that.

جواب دیں
surgery scoliosis an مئی 31, 2021 - 11:22 صبح

Having read this I thought it was rather enlightening.
I appreciate you taking the time and energy to
put this informative article together. I once again find myself spending a significant amount of
time both reading and posting comments. But so what, it was still worth it!

جواب دیں
it free dating sites مئی 31, 2021 - 2:22 شام

Write more, thats all I have to say. Literally,
it seems as though you relied on the video to make your point.
You definitely know what youre talking about, why throw away your intelligence on just posting videos to your
weblog when you could be giving us something enlightening to read?

جواب دیں
with free dating sites جون 1, 2021 - 4:45 صبح

Thanks , I’ve recently been looking for info about this subject for a long time and
yours is the best I’ve discovered so far. But, what concerning the conclusion? Are you sure in regards to the supply?

جواب دیں
dating sites why جون 1, 2021 - 6:58 صبح

This blog was… how do you say it? Relevant!!
Finally I’ve found something that helped me. Many thanks!

جواب دیں
free dating sites on جون 1, 2021 - 11:20 صبح

It’s the best time to make some plans for the long run and it is time
to be happy. I’ve read this submit and if I could I desire to recommend you few interesting issues or suggestions.
Maybe you can write next articles relating to this article.
I desire to read more things approximately it!

جواب دیں
tinyurl.com جون 1, 2021 - 5:08 شام

Undeniably believe that which you stated. Your favorite justification appeared to be on the net
the simplest thing to be aware of. I say to you, I certainly get
irked while people think about worries that they plainly do not know about.
You managed to hit the nail upon the top as well as defined out the whole thing
without having side-effects , people can take a signal.
Will probably be back to get more. Thanks

جواب دیں
http://tinyurl.com جون 2, 2021 - 6:16 صبح

This is very attention-grabbing, You are a very professional blogger.

I have joined your feed and sit up for in quest of extra of your magnificent post.

Also, I’ve shared your website in my social networks

جواب دیں
http://tinyurl.com جون 2, 2021 - 9:58 صبح

It’s in point of fact a nice and helpful piece of information. I am
satisfied that you just shared this useful information with us.
Please stay us informed like this. Thanks for sharing.

جواب دیں

کمینٹ کریں